جنگ امریکا کا انتخاب تھی، عالمی اثرات کا ذمہ دار بھی وہی ہوگا، اسماعیل بقائی
ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ایسے ماحول میں مذاکرات کر رہا ہے جہاں اعتماد کا فقدان اور شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جنگ امریکا کا انتخاب تھی، عالمی اثرات کا ذمہ دار بھی وہی ہوگا
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی اور جنگی صورتحال دراصل امریکا کا اپنا فیصلہ اور انتخاب تھی، جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہے بلکہ پوری دنیا اس کے نتائج کو محسوس کر رہی ہے۔
تہران سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عالمی برادری بالآخر امریکا کو اس جنگ کے پیدا کردہ نتائج اور نقصان کا ذمہ دار ٹھہرائے گی۔ ان کے مطابق ایران کی اس وقت بنیادی توجہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کی بحالی پر مرکوز ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ایسے ماحول میں مذاکرات کر رہا ہے جہاں اعتماد کا فقدان اور شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال جون اور 28 فروری کو امریکا کی جانب سے کی جانے والی “بلا اشتعال کارروائیوں” کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ ایران سفارتی عمل کے ہر مرحلے میں انتہائی محتاط اور چوکنا رویہ اپنائے گا۔ ان کے مطابق امریکا کی پالیسیوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے اب پیچیدہ اور بے نتیجہ مذاکرات میں وقت ضائع نہیں کرے گا۔ اگر امریکا واقعی سنجیدگی دکھاتا ہے تو اسے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نیک نیتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔