ایران کا تمام تجارتی جہازوں کے لئے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان
اسرائیل اور امریکا کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی میں ایک شرائط آبنائے ہرمز کا کھولنا تھا
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر تمام تجارتی بحری جہازوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے کیا، جس میں خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک مثبت پیش رفت کا عندیہ دیا گیا۔
اپنی پوسٹ میں عباس عراقچی نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی باقی مدت کے دوران کمرشل شپنگ کو اجازت ہوگی کہ وہ ایران کی جانب سے مقرر کردہ مخصوص اور مربوط بحری راستوں (کوآرڈی نیٹڈ روٹس) کے ذریعے آبنائے ہرمز سے گزر سکیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ روٹس پہلے ہی ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کی طرف سے جاری کیے جا چکے ہیں، تاکہ جہاز رانی کا عمل محفوظ اور منظم طریقے سے جاری رکھا جا سکے۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے۔ اس صورتحال میں یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا ایران جنگ بندی کے اختتام کے بعد بھی آبنائے ہرمز کو کھلا رکھے گا یا دوبارہ بند کر دے گا، یا پھر اس سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان کوئی مستقل اور جامع معاہدہ طے پا جائے گا۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا فیصلہ کن شرائط کے تحت کیا ہے، اور اس کے پس پردہ کون سے سفارتی یا عسکری معاملات طے پائے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام ممکنہ طور پر عالمی دباؤ، معاشی ضروریات، یا جاری مذاکرات کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ اس کشیدگی کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملہ کیا گیا، جس میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور اعلیٰ عسکری قیادت کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس واقعے کے بعد خطے میں شدید تناؤ پیدا ہو گیا تھا، جس کے بعد جنگ بندی عمل میں آئی۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت، خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اس لیے اس کا کھلنا عالمی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم مستقبل کی صورتحال تاحال غیر یقینی ہے۔