اقوام متحدہ: پاکستان کا ایران کی خودمختاری کی حمایت کا اعلان، ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک پر کیے گئے حملوں کی مذمت
خطے کے تنازعات کو مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، مستقل مندوب عاصم افتخار
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے تنازعات کو مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے کیونکہ خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں جو موجودہ کشیدگی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خطے کے دیگر ہمسایہ ممالک کو اپنی پالیسیوں پر مجبور کرے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کے مندوب محمد ابوشہاب نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ ایران کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حملے بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور ان کا مقصد خطے میں خوف و ہراس پھیلانا ہے۔
اماراتی مندوب نے مزید کہا کہ ایرانی حملوں کا بھرپور مقابلہ کیا جا رہا ہے اور خلیجی ممالک نے اس صورتحال میں صبر اور اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک پر کیے گئے حملوں کی مذمت کی گئی۔ خلیجی ممالک کی طرف سے پیش کردہ قرارداد کے حق میں 13 ووٹ آئے جبکہ چین اور روس ووٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ پاکستان نے بھی اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
بحرین کے مندوب نے بتایا کہ ایرانی حملوں کی مذمت کے لیے پیش کی گئی قرارداد کو 135 ممالک نے کو اسپانسر کیا، جن میں پاکستان بھی شامل تھا۔ اقوام متحدہ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی قرارداد کو 135 ممالک نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے۔ اس سے قبل ایبولا کے معاملے پر 134 ممالک نے ایک قرارداد کی حمایت کی تھی۔
روس کی جانب سے جنگ بندی کی قرادداد امریکا نے ویٹو کر دی ، روس کی جنگ بندی کی قرارداد پاس نہ ہو سکی۔ قرارداد کے حق میں 4 جبکہ مخالف میں 2 ووٹ آئے
اس موقع پر پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی بھی مذمت کی ہے۔