اسپیکر قومی اسمبلی کا پارلیمنٹ اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط روابط کے فروغ کی ضرورت پر زور

اسپیکر قومی اسمبلی کا پارلیمنٹ اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط روابط کے فروغ کی ضرورت پر زور

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا پارلیمانی اسٹڈیز پروگرام کے 10 سالہ جائزہ کانفرنس سے خطاب

اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ اس وقت ملک کی 17 جامعات میں آئین، پارلیمانی امور اور متعلقہ موضوعات پر تدریس جاری ہے، اور ملکی جامعات کے اساتذہ و محققین مقامی سطح پر پارلیمانی عمل پر تحقیق کر رہے ہیں۔

اسلام آباد:   اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمانی اقدار کے فروغ، شہری شعور کی بہتری اور قومی ترقی کے لیے پارلیمنٹ اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط اور مؤثر روابط پر زور دیا ہے۔انہوں نے ان خیالات پارلیمنٹ ہاؤس میں تدریس، تحقیق اور تحریر کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جو پارلیمانی اسٹڈیز پروگرام کے 10 سال مکمل ہونے پر منعقد کی گئی۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ یہ پروگرام 2015 میں ان کی زیرِ صدارت شروع کیا گیا تھا، جس میں ملک کی 25 جامعات نے اپنے نصاب میں پارلیمانی اسٹڈیز شامل کرنے کا عزم کیا تھا۔ انہوں نے وائس چانسلرز، ریکٹرز، پرنسپلز اور سینئر فیکلٹی ممبران کی کانفرنس میں بھرپور شرکت اور طلبہ میں پارلیمانی شعور اجاگر کرنے کے لیے ان کے تعاون کو سراہا۔انہوں نے کہا، "آئین اور قومی اسمبلی میں کارروائی کے قواعدِ و ضوابط صرف سرسری مطالعے سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے عملی مشاہدہ اور تجربہ ضروری ہے۔”

اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ اس وقت ملک کی 17 جامعات میں آئین، پارلیمانی امور اور متعلقہ موضوعات پر تدریس جاری ہے، اور ملکی جامعات کے اساتذہ و محققین مقامی سطح پر پارلیمانی عمل پر تحقیق کر رہے ہیں۔

انہوں نے 2013 میں شروع کیے گئے قومی اسمبلی انٹرن شپ پروگرام کو ایک کامیاب اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام نے ہزاروں طلبہ خصوصاً پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو قانون سازی کے عمل سے روشناس کرایا۔ انہوں نے کہا کہ اکثر انٹرنز پارلیمان کے کام کی وسعت اور پیچیدگی دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں اور وہ پارلیمنٹ و جمہوریت کے سفیر بن کر واپس جاتے ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں شفافیت اور میرٹ کے فروغ کے لیے کی گئی ادارہ جاتی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو محققین، طلبہ اور شہریوں کے لیے سیمینارز، تحقیقی تعاون اور تدریسی پروگرامز کے ذریعے کھول دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسپیکر کے تقریوں اور ترقیوں سے متعلق  اختیارات میں کمی کی گئی ہے تاکہ میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ اسٹاف کی سینیارٹی لسٹس ویب سائٹ پر عوامی سطح پر دستیاب کی گئی ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ قومی اسمبلی آف پاکستان نے ماحول دوست اقدامات کرتے ہوئے 2016 میں دنیا کی پہلی مکمل طور پر شمسی توانائی پر منتقل شدہ "گرین پارلیمنٹ” ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کانفرنس میں پیش کی گئی تجاویز کا خیرمقدم کیا جن میں انٹرن شپ پروگرام کو تمام صوبائی اسمبلیوں تک توسیع دینا، قائمہ کمیٹیوں کے ساتھ تعلیمی اداروں کے روابط کو فروغ دینا، پارلیمانی جریدے کا اجرا اور ڈیجیٹل آرکائیوز کا قیام، تحقیقی مقالوں اور تھیسسز کے لیے ایوارڈز کا آغاز، ماہر پارلیمنٹرینز کو جامعات کی سنڈیکیٹس اور بورڈز میں شامل کرنا، تحقیقی ڈیٹا بینک کا قیام جو تعلیمی و پالیسی سازی کے اداروں کے لیے قابل رسائی ہو، اسٹوڈنٹ ایمبیسیڈر پروگرام کی YPF کے تعاون سے بحالی شامل ہیں۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں پارلیمنٹ کی مکمل حمایت کا یقین دلایا اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے تعاون کے ذریعے جامعات میں پارلیمانی اسٹڈیز پروگرامز کے مؤثر نفاذ کی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے جامعات سے تحریری تجاویز بھی طلب کیں جن پر دسمبر 2025 میں منعقد ہونے والے فالو اپ اجلاس میں غور کیا جائے گا۔ اسپیکر نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں چاروں صوبائی اسمبلیوں، گلگت بلتستان اسمبلی اور آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکرز کو بھی مدعو کیا جائے گا۔

پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) پر پارلیمانی ٹاسک فورس کی کنوینر اور رکن قومی اسمبلی محترمہ شائستہ پرویز نے اسپیکر سردار ایاز صادق کی جانب سے پارلیمانی اسٹڈیز کو ادارہ جاتی سطح پر فروغ دینے اور پارلیمنٹ و تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے اقدام کو سراہا۔ انہوں نے جامعات کو پائیدار ترقی کے اہداف پر تحقیق اور عملی اقدامات کے لیے پارلیمنٹ کے ساتھ شراکت داری کی دعوت دی۔

رکن قومی اسمبلی اور یوتھ پارلیمنٹرینز فورم (YPF) کی صدر محترمہ نوشین افتخار نے ایک تھیمیٹک سیشن کی صدارت کرتے ہوئے نوجوانوں کی جمہوری عمل میں شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی اسٹڈیز پروگرام، انٹرن شپ اور فیلوشپس نوجوانوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ پارلیمنٹ صرف قانون سازی کا ادارہ نہیں بلکہ تحقیق، جدت اور معاشرتی ذمہ داری کا مرکز بھی ہے۔ انہوں نے YPF کی جانب سے اسٹوڈنٹ ایمبیسیڈر پروگرام کی بحالی اور طلبہ کو پارلیمنٹرینز سے براہ راست رابطے کے مواقع فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔اس قومی کانفرنس میں ملک بھر کی 25 سے زائد جامعات کے وائس چانسلرز، ریکٹرز، اعلی تعلیمی اداروں کے سربراہان، ڈینز اور سینئر فیکلٹی ممبران نے بھرپور شرکت کی۔

اسپیکر قومی اسمبلی - سردار ایاز صادققومی اسمبلی - پاکستان
Comments (0)
Add Comment