اسلام آباد معاہدہ خطے میں امن کی بنیاد ہے، جنرل سید عامر رضا
مشرق وسطیٰ میں پاکستان کے مثبت کردار نے تزویراتی اہمیت اجاگر کی، کشیدگی کم کرنے کی پاکستانی کوششوں کو دنیا نے دیکھا
کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا نے کہا ہے کہ سرحد پار دراندازی کسی صورت برداشت نہیں کریں گے ، پاک فوج ملک کے چپے چپے کی حفاظت کے لیے تیار ہے، آپریشن سندور میں ناکامی کے بعد دشمن نے گرے زون کارروائیوں اور بیانیے کی جنگ کا راستہ اختیار کیا، پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب
کاکول: (نیوز پلس) کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی سرحدوں پر جارحیت اور سرحد پار سے دراندازی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، پاک فوج ملک کے چپے چپے کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور ملکی سرحدوں کے دفاع کا عزم غیر متزلزل ہے۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور جدید جنگی تقاضوں کے مطابق اپنی استعداد اور حکمت عملی میں تیزی سے تبدیلیاں کی ہیں۔
پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کاکول میں 154 ویں پی ایم اے لانگ کورس اور 39 ویں ٹیکنیکل گریجویٹ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس نے شاندار پریڈ کا مظاہرہ کیا۔ کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ اس موقع پر غزنوی کمپنی کو قائداعظم بینر سے نوازا گیا، جبکہ جنرل سید عامر رضا نے دوران تربیت نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس میں اعزازات بھی تقسیم کیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سید عامر رضا نے کامیابی سے تربیت مکمل کرنے والے تمام کیڈٹس اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بنگلادیش، سری لنکا اور دیگر دوست ممالک سے تعلق رکھنے والے کیڈٹس کو بھی تربیت کی تکمیل پر مبارکباد دی اور خواتین کیڈٹس کی شرکت کو باعث افتخار قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی تربیت کی تکمیل ایک اہم سنگ میل ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی ملک کی سلامتی، دفاع اور قومی وقار کے تحفظ کی بھاری ذمہ داریاں بھی کیڈٹس کے کندھوں پر عائد ہوتی ہیں۔
جنرل سید عامر رضا نے نئے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ملک کی سلامتی کے لیے بھرپور کردار ادا کریں اور آنے والے چیلنجز کا بہادری، جرات اور عزم کے ساتھ مقابلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ دیانت داری، بہادری اور جرات کامیاب قیادت کے بنیادی اصول ہیں اور ایک فوجی افسر کی کامیابی کا دارومدار اس کی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط، کردار اور قومی ذمہ داریوں سے وابستگی پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کیڈٹس کو تلقین کی کہ وہ ان اصولوں کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں اور ہر صورت ملک و قوم کے مفادات کو مقدم رکھیں۔
کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ نے کہا کہ افواج پاکستان نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور صلاحیتوں کے ذریعے مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔ جدید جنگی ماحول میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر فوجی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق ملکی دفاع کے تقاضے محض روایتی جنگی تیاریوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ بدلتے ہوئے حالات میں نئے خطرات کو سمجھنے، ان سے نمٹنے اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے بہادر جوان ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ ملکی سرحدوں کا دفاع اور قومی خودمختاری کا تحفظ افواج پاکستان کی اولین ترجیح ہے، جبکہ کسی بھی قسم کی جارحیت یا سرحد پار دراندازی کا مقابلہ کرنے کے لیے فوج پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
جنرل سید عامر رضا نے خطے کی حالیہ کشیدہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق کشیدگی میں کمی لانے اور امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر دیکھا گیا، جبکہ مشرق وسطیٰ میں پاکستان کے کردار نے خطے میں اس کی تزویراتی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد معاہدے کو خطے میں امن کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار استحکام کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی کوششیں اہمیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے آپریشن سندور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق اس آپریشن میں ناکامی کے بعد دشمن نے گرے زون کارروائیوں اور بیانیے کی جنگ کا راستہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے اس تناظر میں قومی سلامتی کے تقاضوں کو سمجھنے، بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے اور پیشہ ورانہ تیاری برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں دفاعی چیلنجز کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے افواج کو ہر سطح پر مستعد، چوکس اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رہنا ہوگا۔
جنرل سید عامر رضا نے فلسطین کی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے انسانی حقوق کی پامالی بند کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کا احترام اور خطے میں امن کا قیام عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے کیڈٹس کو اعزازات سے نوازا گیا۔ پاسنگ آؤٹ پریڈ فوجی تربیت کی تکمیل اور عملی عسکری زندگی میں داخلے کی علامت ہے، جہاں نئے افسران سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ نظم و ضبط، دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی دفاع کے عزم کو اپنی ذمہ داریوں کی بنیاد بنائیں گے۔