اسرائیل ایران جنگ میں واپسی پر زور اور امریکہ کے ساتھ آپشنز پر غور کر رہا ہے: رپورٹ
اسرائیلی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ فوجی حکام نے نئی کارروائیوں، سمندری ناکہ بندی اور دیگر منظرناموں پر تبادلہ خیال کیا۔
امریکی اخبار The New York Times کی ایک تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ Israel اور United States نے Iran کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی آئندہ ہفتے کے آغاز میں بھی شروع ہو سکتی ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی اور خطرناک کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حکام اس وقت مختلف عسکری حکمتِ عملیوں پر غور کر رہے ہیں۔ ان میں ایران کی فوجی تنصیبات، دفاعی مراکز اور بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ خلیج فارس میں واقع ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ آئی لینڈ پر قبضے کا منصوبہ بھی زیرِ غور بتایا گیا ہے۔ خارگ آئی لینڈ ایران کی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ ملک کی تیل برآمدات کا بڑا حصہ اسی راستے سے دنیا تک پہنچتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک اور انتہائی حساس اور خطرناک منصوبہ ایرانی سرزمین پر خصوصی کمانڈوز اتارنے کا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد مبینہ طور پر ان جوہری مواد کو اپنے قبضے میں لینا ہو سکتا ہے جو گزشتہ حملوں کے بعد تباہ شدہ تنصیبات کے ملبے تلے دب گیا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا آپریشن نہایت پیچیدہ اور خطرناک ہوگا کیونکہ اس کے لیے ہزاروں فوجیوں کی مدد، علاقے کا مکمل فوجی محاصرہ اور ایرانی افواج کے ساتھ براہِ راست لڑائی کا امکان موجود ہوگا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال جون میں امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے دوران ایران کی بعض جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان حملوں کے بعد اندازہ لگایا گیا کہ تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم ملبے کے نیچے دب گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ مقدار تقریباً 10 جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے، اسی لیے اسے عالمی سلامتی کے لیے انتہائی حساس معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر تشویش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے واقعی ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی شروع کی تو پورا مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے تنازعے کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور خطے کے امن پر بھی پڑ سکتے ہیں۔