آبنائے ہرمز پر مکمل طور پر امریکا کا کنٹرول ہے، ناکہ بندی ختم نہیں بلکہ بڑھا رہے ہیں؛ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا دعویٰ
امریکی وزیر دفاع اور چیف آف اسٹاف نے پینٹاگون میں مشترکہ پریس کانفرنس میں ایران جنگ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی جس کے دوران چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں،
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جاری کارروائیوں میں امریکا کا مقصد بالکل واضح ہے، اور اس کی حکمت عملی درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کا بنیادی ہدف ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، اور امریکا اس مقصد میں کامیابی کے قریب ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اب کبھی جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران میں کیے گئے اقدامات نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہیں۔ ان کے مطابق، ایران کی حکومت اپنے ہی عوام کے خلاف سخت کارروائیاں کرتی رہی ہے اور انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران میں تقریباً 45 ہزار مظاہرین کو ہلاک کیا گیا۔
خطے کی حساس ترین گزرگاہ Strait of Hormuz کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس اہم سمندری راستے پر اب مکمل طور پر امریکا کا کنٹرول ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس راستے سے گزرنے والے بحری جہاز اب امریکی شرائط کے مطابق ہی آمد و رفت کریں گے۔ مزید یہ کہ یہ ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکی صدر Donald Trump چاہیں گے، اور اس مقصد کے لیے ایک اور امریکی بحری بیڑہ بھی علاقے میں پہنچنے والا ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ صدر ٹرمپ نے حکم دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ امریکا فوری طور پر کسی معاہدے کے لیے جلدی میں نہیں ہے، لیکن ایران کے پاس اب بھی ایک بہتر اور دانشمندانہ معاہدہ کرنے کا موقع موجود ہے۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ اگر ایران نے مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو امریکا کی افواج دوبارہ فوری جنگ شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران امریکی چیف آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے بھی اہم معلومات فراہم کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے پانچ بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں سے دو پر قبضہ کر لیا گیا۔ اس کے جواب میں امریکی افواج نے کارروائی کرتے ہوئے ایران سے منسلک دو بحری جہازوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے، اور ان جہازوں کے عملے کو محفوظ طریقے سے امریکی تحویل میں رکھا گیا ہے۔
یہ پریس کانفرنس اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں سفارتی اور عسکری دونوں محاذوں پر حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔