اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی مالدیپ کے صدر ڈاکٹرمعیزو سے ملاقات
پاکستان، مالدیپ کا تجارت، تعلیم اور سیاحت میں روابط بڑھانے پر زور
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو سے ملاقات سے ملاقات کی ہے، ملاقات میں پاکستان، مالدیپ کا تجارت، تعلیم اور سیاحت میں روابط بڑھانے پر زور دیا گیا۔ ملاقات کے دوران سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان مالدیپ کے ساتھ اپنے دیرینہ، دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
اسلام آباد: (پاررلمانی رپورٹر) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور عوامی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان مالدیپ کے ساتھ اپنے دیرینہ، دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک باہمی دلچسپی کے شعبوں، بالخصوص تجارت، تعلیم، صحت، سیاحت اور استعداد کار میں اضافے کے لیے تعاون کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے اعلیٰ سطح کے دوروں اور قیادت کے درمیان مسلسل رابطوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں اور اداروں کے درمیان روابط میں اضافے سے باہمی اعتماد اور افہام و تفہیم کو فروغ ملے گا، جبکہ تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
سردار ایاز صادق نے پارلیمانی سفارت کاری کو پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات مستحکم بنانے کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے پارلیمانی اداروں کے درمیان روابط کو فروغ دینے سے باہمی مکالمے، تعاون اور مشترکہ مفادات کے امور پر ہم آہنگی کو تقویت ملے گی۔
مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دیرینہ دوستی کو سراہتے ہوئے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے عوام کے باہمی مفاد کے لیے مسلسل رابطوں اور قریبی اشتراک کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مسلسل سفارتی روابط، مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ اور عوامی سطح پر میل جول بڑھا کر پاکستان اور مالدیپ کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جائے گا۔
ملاقات میں ارکان قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ، شائستہ خان اور سنجے پروانی بھی موجود تھے۔
