حوثیوں کی بڑھتی میزائل طاقت، سعودی عرب کی دفاعی حکمت عملی پر سوالات
ریاض کے سامنے جنگ، سفارت کاری اور علاقائی سلامتی کے مشکل فیصلے
شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے بعد سعودی عرب کی حکمت عملی پر سوالات، یمن میں طویل زمینی جنگ کے خطرات، ایران سے وابستہ حوثیوں کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیت اور امریکہ کے ممکنہ کردار نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا
سعودی عرب کو یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے عسکری دباؤ کا سامنا ہے، جس نے مملکت کی دفاعی حکمت عملی، علاقائی سلامتی اور معاشی ترقی کے منصوبوں کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میزائل حملے، شہریوں کی ہلاکتوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات نے یہ بحث تیز کر دی ہے کہ سعودی قیادت اب حوثیوں کے خلاف کس نوعیت کی کارروائی کرے گی اور آیا مملکت اپنی موجودہ محدود عسکری حکمت عملی برقرار رکھ سکے گی یا اسے زیادہ وسیع فوجی مداخلت کی طرف جانا پڑے گا۔
سعودی عرب ایک طویل عرصے سے یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے عسکری کارروائیوں، یمنی حکومت کی حمایت، علاقائی اتحاد اور مذاکرات جیسے مختلف ذرائع استعمال کرتا رہا ہے۔ تاہم، تقریباً ایک دہائی سے جاری تنازعے کے باوجود حوثی اپنی عسکری اور سیاسی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ انہوں نے یمن کے شمالی علاقوں اور اہم شہری مراکز میں اپنا اثرورسوخ مضبوط کیا، میزائلوں اور ڈرونز کے استعمال میں مہارت حاصل کی اور وقتاً فوقتاً سعودی سرزمین اور علاقائی بحری راستوں کے لیے خطرات پیدا کیے۔
موجودہ صورت حال کی اہمیت محض سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری کشیدگی تک محدود نہیں۔ اس تنازعے کا تعلق ایران اور امریکہ کے درمیان وسیع تر محاذ آرائی، خلیج فارس کی سلامتی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی اور عالمی معیشت سے بھی جڑتا دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاض کو اپنے ردعمل کا تعین کرتے ہوئے نہ صرف حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں بلکہ واشنگٹن کے مؤقف، علاقائی اتحادیوں کی مدد اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
سعودی قیادت کے سامنے مشکل ترین فیصلہ
حوثیوں کے خلاف جاری کارروائیوں کے باوجود سعودی عرب کو جس بنیادی مسئلے کا سامنا ہے، وہ یہ ہے کہ باغیوں کو مؤثر طور پر روکنے کے لیے کتنی عسکری طاقت استعمال کی جائے اور اس کے ممکنہ نتائج کیا ہوں گے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کے لیے یہ معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ مملکت کو ایک طرف اپنی سرحدوں اور شہری آبادی کا تحفظ یقینی بنانا ہے، جبکہ دوسری طرف اسے ایسے طویل تنازعے سے بھی بچنا ہے جو قومی وسائل اور ترقیاتی ترجیحات پر بھاری بوجھ ڈال سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے حوثیوں کے خلاف لڑنے والی یمنی سرکاری افواج کی حمایت میں بڑے آپریشن کا آغاز سعودی حکمت عملی میں زیادہ فعال کردار کی علامت سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم، باغیوں کی جانب سے اپنی پوزیشن برقرار رکھنے اور سعودی عرب کے خلاف حملوں میں شدت لانے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ محض فضائی دباؤ یا محدود عسکری کارروائیاں تنازعے کا فوری اور مستقل حل فراہم نہیں کر سکیں۔
سعودی عرب اب تک بڑی حد تک حوثی مخالف یمنی افواج کی معاونت، فضائی کارروائیوں اور دفاعی انتظامات پر انحصار کرتا رہا ہے۔ مملکت نے زمینی جنگ میں اپنی فوج کی بڑی تعداد جھونکنے سے گریز کیا ہے، کیونکہ یمن کا دشوار گزار جغرافیہ، قبائلی تقسیم، مقامی سیاسی اختلافات اور حوثیوں کی مضبوط زمینی موجودگی کسی بھی بڑے فوجی آپریشن کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
اگر ریاض براہ راست زمینی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتا ہے تو اسے نہ صرف زیادہ فوجی ہلاکتوں اور مالی اخراجات کا خطرہ مول لینا پڑے گا بلکہ طویل عرصے تک یمن میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا مسئلہ بھی درپیش ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر سعودی عرب اپنے ردعمل کو محدود رکھتا ہے تو حوثیوں کو مزید حملوں کے ذریعے دباؤ بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ یہی وہ تزویراتی کشمکش ہے جس نے سعودی قیادت کے لیے فیصلہ سازی کو مشکل بنا دیا ہے۔
سعودی سیاست پر نظر رکھنے والے مبصر علی شہابی کے مطابق اس خطرے سے مستقل طور پر نمٹنا ضروری ہے، تاہم اس کا انحصار بڑی حد تک زمینی سطح پر یمنی حکومتی افواج کی کارکردگی پر ہوگا۔ ان کے مؤقف سے یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ سعودی عرب کے لیے کامیابی کا راستہ صرف فضائی طاقت کے استعمال میں نہیں، بلکہ ایسی مقامی فوجی قوت کی تشکیل میں بھی ہے جو حوثیوں کے زیرکنٹرول علاقوں میں ان کا مقابلہ کر سکے۔
یمن کی جنگ: ایک دہائی بعد بھی غیر یقینی صورت حال
یمن کا تنازعہ مشرق وسطیٰ کے پیچیدہ ترین بحرانوں میں شمار ہوتا ہے۔ حوثی تحریک، جس کی جڑیں یمن کے شمالی علاقے صعدہ میں قائم زیدی مذہبی و سیاسی تحریک سے ملتی ہیں، گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ایک مقامی تحریک سے ایسی مسلح قوت میں تبدیل ہوئی جس کے پاس میزائل، ڈرونز اور دیگر جدید ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
2014 میں حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد یمن کا سیاسی بحران مزید شدت اختیار کر گیا۔ مارچ 2015 میں سعودی قیادت میں اتحاد نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی۔ ریاض کا بنیادی مقصد حوثیوں کی پیش قدمی روکنا اور یمنی حکومت کو دوبارہ اقتدار میں لانے میں مدد دینا تھا۔
تاہم، جنگ کے ابتدائی مقاصد پورے نہ ہو سکے۔ برسوں کی فضائی کارروائیوں اور فوجی دباؤ کے باوجود حوثی شمالی یمن کے وسیع حصوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ دوسری جانب، یمنی حکومت اور اس کے اتحادیوں کے درمیان اختلافات، مقامی دھڑوں کی باہمی رقابت اور سیاسی تقسیم نے حوثیوں کے خلاف مشترکہ محاذ کو کمزور کیا۔
اس جنگ نے یمن کی معیشت، بنیادی ڈھانچے اور انسانی زندگی کو شدید نقصان پہنچایا۔ خوراک کی قلت، صحت کی سہولتوں کی کمی، بے گھر افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد اور روزگار کے مواقع میں کمی نے بحران کو مزید سنگین بنایا۔ اقوام متحدہ کے ادارے اور امدادی تنظیمیں برسوں سے خبردار کرتی رہی ہیں کہ یمن میں انسانی ضروریات اور دستیاب وسائل کے درمیان فرق انتہائی وسیع ہے۔
سعودی عرب کے لیے اس تاریخ سے ایک اہم سبق یہ ہے کہ فوجی برتری اور جدید ہتھیاروں کے باوجود کسی پیچیدہ داخلی تنازعے کو صرف طاقت کے ذریعے ختم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ جب مخالف فریق کو مقامی حمایت، جغرافیائی فائدہ، متبادل رسد اور طویل جنگ لڑنے کا تجربہ حاصل ہو تو فوجی کارروائیوں کے نتائج توقعات سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
حوثیوں کی بڑھتی ہوئی میزائل اور ڈرون صلاحیت
حوثیوں کی عسکری قوت میں اضافے نے سعودی عرب کے دفاعی منصوبہ سازوں کے لیے خطرے کی نوعیت بدل دی ہے۔ ماضی میں انہیں بنیادی طور پر یمن کے اندر سرگرم ایک مسلح گروہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اب ان کے پاس ایسے میزائل اور ڈرون استعمال کرنے کی صلاحیت ہے جو سرحدوں سے دور اہداف کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

یمن کے جنوبی حصوں سے تعلق رکھنے والے ایک عہدیدار کے مطابق، حوثیوں نے اپنے جنگی طریقوں کو جدید بنایا ہے، ان کے حملے زیادہ پیچیدہ ہوئے ہیں اور ان کی انٹیلی جنس صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس نوعیت کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حوثیوں کی حکمت عملی صرف زیادہ ہتھیار حاصل کرنے تک محدود نہیں، بلکہ ہدف کے انتخاب، حملے کے وقت اور مختلف ہتھیاروں کے مشترکہ استعمال میں بہتری لانے پر بھی مرکوز ہے۔
یمنی حکومت کا الزام ہے کہ حوثیوں نے ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ ماہرین کی مدد سے اپنے میزائل نظام کو بہتر بنایا ہے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی بھی طویل عرصے سے ایران پر حوثیوں کو اسلحہ، تکنیکی مدد اور عسکری تربیت فراہم کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ ایران اور حوثیوں کے تعلقات کی نوعیت اور مختلف ادوار میں ملنے والی معاونت کی سطح پر مزید تفصیلی شواہد کی ضرورت رہتی ہے، تاہم علاقائی سلامتی کے مباحث میں یہ تعلق ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان ماجد النزیلی نے دعویٰ کیا ہے کہ نئے میزائل زیادہ تیز رفتاری سے پرواز کرنے اور حرارتی ذرائع کی نشاندہی کرنے والے نظام استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ ریاض کے ہوائی اڈے پر مبینہ حملے میں انہی میزائلوں کا استعمال کیا گیا تھا یا کسی دوسرے ہتھیار کو بروئے کار لایا گیا۔
یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ کسی مخصوص ہتھیار کی صلاحیت اور کسی حملے میں اس کے حقیقی استعمال کی تصدیق دو الگ امور ہیں۔ میزائل یا ڈرون کی نوعیت، پرواز کا راستہ، ملبے کا تجزیہ اور دفاعی نظام کے ریکارڈ جیسے شواہد کے بغیر کسی حملے کو کسی خاص ہتھیار سے منسوب کرنا قبل از وقت ہوگا۔
سستے ڈرون اور مہنگے دفاعی نظام کا مسئلہ
سعودی عرب کے پاس جدید فضائی دفاعی نظام موجود ہیں، لیکن ان نظاموں کی موجودگی ہر حملے کو ناکام بنانے کی ضمانت نہیں دیتی۔ مملکت کا وسیع جغرافیہ، اہم تنصیبات کا مختلف علاقوں میں پھیلا ہونا اور توانائی، نقل و حمل اور شہری ہوا بازی کے مراکز کا تحفظ ایک بڑا دفاعی چیلنج ہے۔
جدید جنگ میں نسبتاً کم قیمت کے ڈرون اور میزائل بھی بڑے معاشی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ حملہ آور اگر متعدد سمتوں سے مختلف نوعیت کے ہتھیار استعمال کرے تو دفاع کرنے والے فریق کو بیک وقت کئی اہداف کی نشاندہی، درجہ بندی اور روک تھام کرنا پڑتی ہے۔ اس عمل میں جدید ریڈار، فضائی نگرانی، انٹیلی جنس اور فوری فیصلہ سازی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
یہاں سعودی عرب کے لیے مسئلہ صرف دفاعی نظام خریدنے کا نہیں، بلکہ مختلف نظاموں کو ایک مربوط کمانڈ نیٹ ورک کے تحت مؤثر انداز میں استعمال کرنے کا بھی ہے۔ میزائل دفاع کے ساتھ ڈرون کی نشاندہی، کم بلندی پر پرواز کرنے والے اہداف کی نگرانی، اہم تنصیبات کے گرد اضافی حفاظتی اقدامات اور ہنگامی حالات میں شہری خدمات کی بحالی بھی ضروری ہے۔
اس صورت حال کا ایک معاشی پہلو بھی ہے۔ اگر نسبتاً سستا حملہ آور ہتھیار روکنے کے لیے مہنگا دفاعی میزائل استعمال کرنا پڑے تو طویل عرصے میں دفاعی اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے سعودی عرب کو روایتی فضائی دفاع کے ساتھ کم لاگت والے انسدادِ ڈرون نظام، بہتر نگرانی اور اہم تنصیبات کی مضبوطی پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
مصنوعی ذہانت اور جنگ کے بدلتے ہوئے تقاضے
حوثیوں سے منسوب جدید ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے مصنوعی ذہانت کے استعمال کا معاملہ بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی کمپنی اینتھروپک (Anthropic) نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ شمالی یمن میں موجود ایک گروہ نے اس کے کلاڈ (Claude) ٹولز کو راکٹوں اور میزائلوں کے لیے رہنمائی کے سافٹ ویئر کی تیاری میں مدد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔
رپورٹ میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی شناخت واضح نہیں کی گئی، اس لیے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا کہ اس سرگرمی میں حوثی قیادت براہ راست ملوث تھی۔ تاہم، شمالی یمن میں اس نوعیت کی سرگرمی کی اطلاعات جدید ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کے ممکنہ استعمال سے متعلق اہم سوالات ضرور اٹھاتی ہیں۔
مصنوعی ذہانت پہلے ہی انٹیلی جنس کے تجزیے، تصاویر کی شناخت، نگرانی، لاجسٹکس اور فیصلہ سازی میں استعمال ہو رہی ہے۔ اگر اس ٹیکنالوجی کو میزائلوں یا ڈرونز کی رہنمائی اور ہتھیاروں کے نظام بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے تو عسکری خطرات کی نوعیت مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
اس کے باوجود، کسی مصنوعی ذہانت کے ٹول کے استعمال کی اطلاع بذات خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ کوئی گروہ خودکار ہتھیار تیار کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے یا اسے میدان جنگ میں مؤثر طور پر استعمال کر رہا ہے۔ اس کے لیے نظام کی حقیقی صلاحیت، انسانی نگرانی، آزمائش اور عملی استعمال سے متعلق قابل تصدیق شواہد ضروری ہیں۔
سعودی عرب اور اس کے شراکت داروں کے لیے اس نئے چیلنج کا تقاضا ہے کہ وہ روایتی دفاعی تیاریوں کے ساتھ سائبر سکیورٹی، تکنیکی نگرانی اور جدید ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو بھی اہمیت دیں۔
امریکہ کا کردار: اتحادی، مگر محدود مداخلت
سعودی عرب کے لیے سب سے اہم بیرونی شراکت دار امریکہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، اسلحے کی خریداری، انٹیلی جنس کے تبادلے اور علاقائی سلامتی کے معاملات میں دیرینہ روابط موجود ہیں۔ تاہم، حوثیوں کے خلاف براہ راست امریکی فضائی کارروائیوں کے معاملے پر واشنگٹن کا مؤقف ریاض کی توقعات سے مختلف ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے حوثیوں کے خلاف فضائی حملوں میں براہ راست شمولیت کی حمایت نہیں کی، البتہ ایک نئی مشترکہ کمان کے تحت انٹیلی جنس معاونت کے لیے 100 سے زیادہ فوجی مشیر بھیجنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس نوعیت کی معاونت سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو حملوں کے ذرائع، ممکنہ اہداف اور خطرات کی نشاندہی میں مدد دے سکتی ہے، لیکن یہ براہ راست امریکی فضائی کارروائی کے مساوی نہیں۔
سعودی عرب کی خواہش یہ ہو سکتی ہے کہ امریکہ اپنی جدید سیٹلائٹ نگرانی، فضائی طاقت اور انٹیلی جنس صلاحیتوں کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے حوثیوں کے حملوں کو روکنے میں مدد دے۔ تاہم، واشنگٹن کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس کی براہ راست مداخلت ایران کے ساتھ وسیع تر کشیدگی کو کس حد تک بڑھا سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاض کے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد اسے خوفناک قرار دیا اور اس سوال پر کہ آیا امریکہ حوثیوں کے خلاف کارروائی میں شامل ہوگا، کہا کہ ایسا کیا جا سکتا ہے۔ یہ بیان ممکنہ مداخلت کا دروازہ کھلا رکھتا ہے، لیکن اسے باقاعدہ فوجی فیصلے یا کارروائی کے اعلان کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔
امریکہ کے لیے مسئلہ یہ بھی ہے کہ حوثیوں کے خلاف وسیع فضائی مہم شروع کرنے سے خطے میں اس کی فوجی موجودگی، دفاعی اخراجات اور ایرانی ردعمل کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ واشنگٹن اس بات کا بھی جائزہ لے سکتا ہے کہ آیا انٹیلی جنس معاونت اور دفاعی تعاون کے ذریعے سعودی سلامتی کو بہتر بنانا براہ راست جنگ میں شامل ہونے سے زیادہ موزوں راستہ ہے۔
دوسری جانب، اگر امریکی شہریوں یا امریکی مفادات کو مزید نقصان پہنچتا ہے تو واشنگٹن پر ردعمل دینے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم، کسی ایک حملے کے بعد امریکہ کی اگلی کارروائی کا تعین صرف ہلاکتوں کی تعداد سے نہیں ہوگا، بلکہ حملے کی تصدیق، ذمہ داری کے تعین، علاقائی صورت حال اور امریکی انتظامیہ کے سیاسی و عسکری جائزے پر بھی منحصر ہوگا۔
ایران، حوثی اور وسیع تر علاقائی تنازعہ
حوثیوں کی کارروائیوں کو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی سے الگ کرکے دیکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ تہران کے علاقائی اتحادیوں اور شراکت دار گروہوں کی سرگرمیاں مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ تاہم، حوثیوں کی ہر کارروائی کو ایران کے براہ راست حکم کا نتیجہ قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا، کیونکہ اس گروہ کے اپنے مقامی مفادات، سیاسی مقاصد اور یمن کے اندرونی تنازعے سے جڑی ترجیحات موجود ہیں۔
حوثی قیادت سعودی عرب کے خلاف اپنی کارروائیوں کو برسوں سے جاری جنگ اور سعودی فوجی مداخلت کے تناظر میں پیش کرتی رہی ہے۔ اس کے برعکس، ریاض حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو اپنی قومی سلامتی، سرحدی تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھنے کی صورت میں یمن کا محاذ وسیع تر دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ بن سکتا ہے۔ حوثی اگر سعودی تنصیبات یا بحیرہ احمر میں جہاز رانی کو نشانہ بناتے ہیں تو اس کے اثرات خلیجی ممالک، عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت تک پہنچ سکتے ہیں۔
اس تناظر میں سعودی عرب کے لیے دو سطحوں پر کام کرنا ضروری ہوگا۔ پہلی سطح پر حوثیوں کی جانب سے براہ راست حملوں کی روک تھام اور دفاعی تیاریوں کو مضبوط بنانا، جبکہ دوسری سطح پر ایران اور دیگر علاقائی فریقوں کے ساتھ سفارتی رابطوں کے ذریعے تنازعے کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کرنا۔
باب المندب اور عالمی تجارت کو لاحق خطرات
یمن کی جغرافیائی اہمیت اس تنازعے کو عالمی معیشت سے براہ راست جوڑتی ہے۔ باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے اور ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان بحری تجارت کے اہم راستوں میں شامل ہے۔ اس کے ذریعے گزرنے والے تجارتی جہاز نہ صرف یورپی اور ایشیائی منڈیوں بلکہ توانائی اور دیگر بنیادی اشیا کی عالمی ترسیل کے لیے بھی اہم ہیں۔

اگر حوثی اس راستے پر حملوں میں اضافہ کرتے ہیں تو جہاز رانی کی کمپنیوں کو اپنے بحری جہازوں کے راستے تبدیل کرنے پڑ سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سفر کا دورانیہ بڑھ سکتا ہے، ایندھن اور بیمہ کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔
سعودی عرب کے لیے یہ مسئلہ دوہری اہمیت رکھتا ہے۔ ایک طرف مملکت کی اپنی بندرگاہوں، توانائی کی تنصیبات اور تجارتی سرگرمیوں کا تحفظ ضروری ہے، جبکہ دوسری طرف بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں استحکام سعودی عرب کے معاشی اور سیاحتی منصوبوں کے لیے بھی اہم ہے۔
حوثیوں کی جانب سے عالمی تجارت کو دباؤ میں لانے کی صلاحیت انہیں اپنے سے زیادہ طاقتور ممالک کے خلاف ایک اضافی تزویراتی ذریعہ فراہم کرتی ہے۔ تاہم، اس حکمت عملی کی قیمت یمن کے شہریوں اور خطے کی معیشت کو بھی ادا کرنا پڑ سکتی ہے، کیونکہ جہاز رانی میں خلل اور فوجی کشیدگی کے اثرات عام طور پر کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے۔
سعودی عرب کی عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں
ریاض نے حوثیوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں سے تعاون بڑھانے کی کوششیں کی ہیں۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، فرانس، برطانیہ اور پاکستان نے سعودی عرب کی حمایت کا وعدہ کیا ہے، جبکہ ترکی سمیت دیگر علاقائی شراکت داروں کے ممکنہ کردار پر بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔
تاہم، حمایت کی نوعیت کو واضح رکھنا ضروری ہے۔ سفارتی حمایت، دفاعی تعاون، انٹیلی جنس کے تبادلے، فضائی دفاع میں مدد اور براہ راست فوجی کارروائی الگ الگ نوعیت کے اقدامات ہیں۔ کسی ملک کی جانب سے سعودی عرب کی حمایت کے اعلان کو خودبخود حوثیوں کے خلاف جنگ میں فوجی شمولیت نہیں سمجھا جا سکتا۔
فرانس اور برطانیہ کے لیے بحیرہ احمر میں جہاز رانی اور علاقائی استحکام اہم مفادات ہیں۔ دونوں ممالک کے ممکنہ تعاون کا دائرہ دفاعی صلاحیتوں، انٹیلی جنس، بحری تحفظ اور سفارتی رابطوں تک پھیل سکتا ہے۔ تاہم، کسی بھی براہ راست کارروائی کے لیے متعلقہ حکومتوں کے سیاسی اور قانونی فیصلے ضروری ہوں گے۔
ترکی کے لیے بھی یہ معاملہ علاقائی سلامتی اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں اہم ہے۔ لیکن انقرہ کے ممکنہ کردار کا تعین اس کی اپنی علاقائی ترجیحات، فوجی وسائل اور کشیدگی کو وسیع تر جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوششوں سے ہوگا۔
پاکستان کی پوزیشن اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتی ہے کہ اس کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی، سفارتی اور معاشی تعلقات گہرے ہیں۔ اسلام آباد کو سعودی سلامتی کی حمایت، علاقائی استحکام اور ایران سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوگا۔ پاکستان کے لیے ایسا کوئی بھی اقدام اہم ہوگا جو سعودی عرب کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دے، لیکن اسے غیر ضروری علاقائی تصادم میں دھکیلنے سے بھی گریز کرے۔
شام کا ممکنہ کردار اور علاقائی اتحاد
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد نے مبینہ طور پر شام کے صدر احمد الشرع سے مدد کے لیے رابطہ کیا ہے۔ شام میں سابقہ حکومت کے خاتمے اور علاقائی طاقتوں کے درمیان بدلتے ہوئے تعلقات نے مشرق وسطیٰ کے سیاسی نقشے کو تبدیل کیا ہے۔ ایسے ماحول میں سعودی عرب اور شام کے درمیان تعاون کی ممکنہ صورتیں علاقائی سفارت کاری کے لیے اہم ہو سکتی ہیں۔
تاہم، شام کا داخلی استحکام، اس کی فوجی صلاحیت، معاشی حالات اور مختلف مسلح دھڑوں کے ساتھ تعلقات کسی بھی ممکنہ تعاون کی حدود متعین کریں گے۔ شام کی جانب سے ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے اثرورسوخ کو کم کرنے کی کوششوں کو یمن میں حوثیوں کے خلاف مؤثر عسکری مدد فراہم کرنے کی صلاحیت کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔
اگر سعودی عرب علاقائی شراکت داروں کا ایک وسیع نیٹ ورک تشکیل دینے میں کامیاب ہوتا ہے تو اسے انٹیلی جنس کے تبادلے، سفارتی دباؤ اور دفاعی تعاون کے زیادہ مواقع مل سکتے ہیں۔ تاہم، مختلف ممالک کے مفادات میں فرق، مشترکہ کمان کے مسائل اور جنگ کے پھیلاؤ کے خدشات اس تعاون کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
سعودی عرب کی معاشی تبدیلی اور سلامتی کا تعلق
سعودی عرب کے لیے حوثیوں کا خطرہ صرف فوجی نوعیت کا نہیں، بلکہ مملکت کے مستقبل کے معاشی منصوبوں سے بھی براہ راست جڑا ہوا ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت سعودی عرب تیل پر انحصار کم کرنے، سیاحت کو فروغ دینے، غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے، جدید بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے اور معیشت کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان منصوبوں کی کامیابی کے لیے امن، استحکام اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر اہم ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات، بندرگاہوں یا شہری مراکز پر حملوں کا خطرہ بڑھتا ہے تو کاروباری سرگرمیوں، سیاحت، بیمہ اور سرمایہ کاری کے فیصلوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ کسی ایک حملے سے سعودی عرب کے تمام ترقیاتی منصوبے متاثر ہو جائیں گے، لیکن مسلسل حملوں اور طویل جنگ کے خطرے سے معاشی غیر یقینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ریاض کے لیے دفاعی تیاریوں اور معاشی استحکام کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھنا ممکن نہیں۔
سعودی قیادت کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہوگا کہ وہ اپنی سرزمین اور اہم تنصیبات کو محفوظ بناتے ہوئے ایسی عسکری حکمت عملی اختیار کرے جو غیر ضروری طور پر جنگ کا دائرہ وسیع نہ کرے۔ ایک طویل تنازعہ دفاعی اخراجات بڑھا سکتا ہے، جبکہ سیاسی تصفیہ اور مستحکم سلامتی کا ماحول معاشی اصلاحات کے لیے زیادہ سازگار حالات پیدا کر سکتا ہے۔
حوثیوں کے خلاف کارروائی کے ممکنہ راستے
موجودہ صورت حال میں سعودی عرب کے سامنے کئی ممکنہ راستے ہیں، جن میں سے ہر ایک کے فوائد اور خطرات ہیں۔
پہلا راستہ فضائی دفاع اور انٹیلی جنس تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے تحت اہم تنصیبات کے تحفظ، میزائل اور ڈرون حملوں کی بروقت نشاندہی، اتحادیوں کے ساتھ معلومات کے تبادلے اور شہری دفاع کو بہتر بنانے پر توجہ دی جا سکتی ہے۔ یہ حکمت عملی فوری خطرات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن حوثیوں کی زمینی طاقت اور سیاسی اثرورسوخ کو خودبخود ختم نہیں کرے گی۔
دوسرا راستہ یمنی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی زمینی صلاحیت بڑھانا ہے۔ اگر مقامی افواج بہتر تربیت، مربوط کمان، مؤثر لاجسٹکس اور سیاسی حمایت حاصل کرتی ہیں تو وہ حوثیوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تاہم، یمنی حکومت کے اندر اختلافات اور مختلف دھڑوں کے مفادات میں فرق اس حکمت عملی کی کامیابی کو متاثر کر سکتا ہے۔
تیسرا راستہ سعودی عرب کی براہ راست فوجی مداخلت میں اضافہ ہے۔ اس سے حوثیوں پر دباؤ بڑھانے کا امکان موجود ہے، لیکن اس کے ساتھ جانی نقصان، مالی اخراجات، جوابی حملوں اور طویل زمینی جنگ میں پھنسنے کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اسی لیے کسی بھی بڑے فوجی اقدام کے نتائج کا اندازہ لگاتے ہوئے اس کے فوری اثرات کے ساتھ طویل مدتی اخراجات بھی دیکھنا ہوں گے۔
چوتھا راستہ سفارتی مذاکرات اور علاقائی رابطوں کو دوبارہ مؤثر بنانا ہے۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان ماضی میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے لیے کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ اگرچہ حملوں میں اضافے کے بعد مذاکرات کا راستہ مشکل دکھائی دے سکتا ہے، لیکن مستقل سیاسی حل کے لیے کسی نہ کسی مرحلے پر بات چیت کی ضرورت برقرار رہے گی۔
ان راستوں کو ایک دوسرے کا متبادل سمجھنا بھی ضروری نہیں۔ سعودی عرب دفاعی اقدامات، یمنی حکومت کی حمایت اور سفارتی رابطوں کو بیک وقت آگے بڑھا سکتا ہے، بشرطیکہ ان کے مقاصد واضح اور ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوں۔
کیا امریکہ جنگ میں براہ راست شامل ہوگا؟
امریکہ کی ممکنہ شمولیت اس تنازعے کے مستقبل کا ایک اہم سوال ہے۔ واشنگٹن کے پاس جدید فضائی طاقت، سیٹلائٹ نگرانی اور انٹیلی جنس کی وسیع صلاحیتیں موجود ہیں، جو حوثیوں کے حملوں کی روک تھام میں سعودی عرب کی مدد کر سکتی ہیں۔ تاہم، امریکی فوجی کارروائیوں سے ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ اور مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تصادم کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ امریکہ حوثیوں کے خلاف کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے، ایک ممکنہ آپشن کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن اس سے کسی حتمی فیصلے کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی انتظامیہ کو یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا براہ راست فضائی حملے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتے ہیں یا ان سے حوثیوں کی جانب سے مزید جوابی کارروائیاں شروع ہونے کا امکان زیادہ ہے۔
اگر واشنگٹن محدود دفاعی تعاون تک رہتا ہے تو سعودی عرب کو اپنے دفاعی نظام اور علاقائی شراکت داروں پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر امریکہ براہ راست کارروائی کرتا ہے تو حوثیوں کے خلاف عسکری دباؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ تنازعے کے دوسرے محاذوں تک پھیلنے کا خطرہ بھی موجود رہے گا۔
اس لیے امریکی فیصلے کا انحصار صرف سعودی عرب کی درخواست پر نہیں بلکہ واشنگٹن کے اپنے مفادات، علاقائی حالات اور ممکنہ نتائج پر ہوگا۔
مستقبل کا منظرنامہ: جنگ بندی یا طویل کشیدگی؟
موجودہ حالات میں فوری اور مستقل حل کی ضمانت دینا ممکن نہیں۔ سعودی عرب کے لیے حوثیوں کے حملوں کو روکنا، شہری آبادی کا تحفظ یقینی بنانا اور اہم تنصیبات کو محفوظ رکھنا بنیادی ترجیحات رہیں گی۔ دوسری طرف، حوثی اپنی عسکری صلاحیت، مقامی سیاسی اثرورسوخ اور علاقائی کشیدگی سے حاصل ہونے والے دباؤ کو برقرار رکھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
اگر سعودی عرب دفاعی تیاریوں کے ساتھ یمنی حکومتی افواج کی صلاحیت بہتر بنانے میں کامیاب ہوتا ہے تو حوثیوں کی کارروائیوں کو محدود کرنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اس کے لیے صرف ہتھیار یا فضائی مدد کافی نہیں ہوگی؛ یمن کے اندر سیاسی مفاہمت، مقامی انتظامی ڈھانچے کی بحالی اور مختلف مخالف دھڑوں کے درمیان تعاون بھی ضروری ہوگا۔
اس کے برعکس، اگر تنازعے میں براہ راست امریکی یا دوسرے بیرونی فوجی فریقوں کی شمولیت بڑھتی ہے تو حوثیوں کے خلاف دباؤ میں اضافہ ممکن ہے، لیکن ایران اور دیگر علاقائی فریقوں کے ردعمل سے کشیدگی مزید پھیل بھی سکتی ہے۔ ایسے حالات میں بحیرہ احمر کی جہاز رانی، عالمی توانائی کی ترسیل اور مشرق وسطیٰ کی معیشت پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
سفارتی راستہ بھی مشکلات سے خالی نہیں۔ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان اعتماد کی کمی، یمن کے اندر مختلف سیاسی و عسکری دھڑوں کے اختلافات اور ایران و امریکہ کے وسیع تر تنازعے کی وجہ سے مذاکرات کی پیش رفت سست ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود، جنگ بندی اور سیاسی مفاہمت کی کوششیں طویل مدتی استحکام کے لیے اہم رہیں گی۔
طاقت کے استعمال کے ساتھ سیاسی حل بھی ناگزیر
سعودی عرب کے سامنے موجود صورت حال یہ ظاہر کرتی ہے کہ جدید جنگ میں مالی وسائل، جدید طیارے اور فضائی دفاعی نظام اہم ضرور ہیں، لیکن وہ ہر مسئلے کا مستقل حل فراہم نہیں کرتے۔ حوثیوں کی بڑھتی ہوئی میزائل اور ڈرون صلاحیت، یمن کے پیچیدہ سیاسی حالات اور علاقائی طاقتوں کے مفادات نے اس تنازعے کو ایک ایسے مرحلے پر پہنچا دیا ہے جہاں صرف عسکری کارروائیوں سے پائیدار استحکام حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
ریاض کو اپنی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے، یمنی حکومت کی عملی استعداد بہتر کرنے، اتحادیوں کے ساتھ تعاون بڑھانے اور سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ سعودی عرب کے لیے سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ وہ مزید فوجی طاقت استعمال کر سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کون سی حکمت عملی اس کی سرزمین کو محفوظ رکھنے کے ساتھ طویل جنگ اور علاقائی تصادم کے خطرات کو بھی کم کر سکتی ہے۔
حوثیوں کے حملوں کا مؤثر جواب دینا سعودی عرب کی قومی سلامتی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، لیکن یمن میں مستقل امن کے لیے سیاسی حل، علاقائی مفاہمت اور انسانی بحران کے خاتمے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر تنازعہ مزید پھیلتا ہے تو اس کی قیمت صرف سعودی عرب اور یمن کو نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی معیشت کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
بالآخر، سعودی عرب کے لیے اصل امتحان اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنے سے زیادہ اس طاقت کو ایک ایسی حکمت عملی میں ڈھالنے کا ہے جو شہریوں کے تحفظ، علاقائی استحکام اور معاشی ترقی کے اہداف کو بیک وقت آگے بڑھا سکے۔
تجزیاتی رپورٹ- سی این این
