Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

ایران جنگ میں سید علی خامنہ ای کا قتل اسرائیل کی سنگین غلطی تھی، یائر گولان

ایران جنگ میں سید علی خامنہ ای کا قتل اسرائیل کی سنگین غلطی تھی، یائر گولان

نیتن یاہو نے تاریخی موقع گنوا دیا، ایران کے خلاف جنگ نے اسرائیل کی پوزیشن مزید کمزور کردی، سابق اسرائیلی ڈپٹی چیف آف اسٹاف

 

اسرائیلی فوج کے سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور ڈیموکریٹس پارٹی کے رہنما یائر گولان نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو جنگ کے آغاز میں قتل کرنے کے فیصلے کو اسرائیل کی سنگین اسٹریٹیجک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ نے اسرائیل کی پوزیشن بہتر بنانے کے بجائے اسے مزید مشکلات سے دوچار کردیا۔

 

ایک انٹرویو میں یائر گولان نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جنگ میں غیرحقیقت پسندانہ اہداف مقرر کیے، جنہیں حاصل کرنے میں اسرائیل ناکام رہا۔ ان کے مطابق خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے فیصلے سے اسرائیل کو وہ سیاسی اور اسٹریٹیجک فوائد حاصل نہیں ہوئے جن کی توقع کی جارہی تھی، بلکہ اس اقدام نے ایران میں قدامت پسند قوتوں کو مزید مضبوط ہونے کا موقع فراہم کیا۔

یائر گولان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نے ایک تاریخی موقع ضائع کردیا۔ ان کے بقول، کسی ملک کے طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے عمر رسیدہ رہنما کی موجودگی بعض حالات میں اس ملک کے سیاسی نظام کے لیے ایک خاص نوعیت کی کمزوری بن سکتی ہے، تاہم خامنہ ای کو قتل کرنے کے فیصلے سے اسرائیل اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

انہوں نے کہا کہ 86 سالہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے سے ایران کے انقلابی نظام کو کمزور کرنے یا حکومت کا تختہ الٹنے کے بجائے قدامت پسند حلقوں کی پوزیشن مضبوط ہوئی۔ ان کے مطابق اس کارروائی سے اسرائیل کے اسٹریٹیجک مفادات کو فائدہ پہنچنے کے بجائے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

سابق اسرائیلی فوجی عہدیدار نے ایران کے خلاف جنگ کے مقاصد اور ان کے حصول کے امکانات پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ نیتن یاہو نے ایسے اہداف مقرر کیے جنہیں عملی طور پر حاصل کرنا ممکن نہیں تھا، جس کے نتیجے میں اسرائیل کو مطلوبہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔

یائر گولان کے بیان سے اسرائیل کی سیاسی قیادت کی ایران جنگ سے متعلق حکمت عملی پر اندرونی اختلافات بھی نمایاں ہوتے ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق کسی اہم رہنما کو ختم کردینا لازماً اس ملک کے سیاسی نظام میں تبدیلی یا حکومت کے خاتمے کا سبب نہیں بنتا، بلکہ بعض حالات میں اس کے برعکس نتائج بھی سامنے آسکتے ہیں۔

انٹرویو کے دوران یائر گولان نے اسرائیل کی الٹرا آرتھوڈوکس آبادی پر بھی تنقید کی اور اسے دوسروں پر انحصار کرنے والا طفیلی طبقہ قرار دیا۔ ان کے اس بیان کو اسرائیل میں مذہبی آبادی کے کردار اور معاشرتی ذمہ داریوں سے متعلق جاری بحث کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔

یائر گولان کے تبصروں نے ایران کے خلاف اسرائیلی جنگ کے نتائج، نیتن یاہو کی حکمت عملی اور جنگ کے ذریعے سیاسی تبدیلی لانے کے امکانات پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان کا بنیادی مؤقف ہے کہ خامنہ ای کو قتل کرنے کا فیصلہ اسرائیل کے لیے فیصلہ کن اسٹریٹیجک کامیابی ثابت نہیں ہوا اور جنگ کے مقررہ اہداف حاصل نہ ہونے کے باعث اسرائیل کی پوزیشن مزید پیچیدہ ہوگئی۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:13 + 2 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More