Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

انایا بنگر کی کرکٹ میں واپسی کی راہ ہموار، آسٹریلیا میں ویمنز کرکٹ کھیلنے کی اجازت

انایا بنگر کی کرکٹ میں واپسی کی راہ ہموار، آسٹریلیا میں ویمنز کرکٹ کھیلنے کی اجازت

سابق ممبئی انڈر 19 کرکٹر انایا بنگر کے دوبارہ مسابقتی خواتین کی کرکٹ میں واپسی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ کرکٹ آسٹریلیا نے انہیں ملک میں خواتین کی کمیونٹی اور پریمیئر کرکٹ میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد وہ آسٹریلیا کی مختلف ریاستوں اور علاقوں میں ہونے والے مقابلوں میں کھیل سکیں گی۔

25 سالہ انایا بنگر نے صنفی تبدیلی کے عمل کے بعد مارچ 2026 میں صنفی تصدیقی سرجری بھی کرائی تھی۔ ان کا تعلق سابق بھارتی کرکٹر اور بیٹنگ کوچ سنجے بنگر کے خاندان سے ہے۔ انایا نے ممبئی کی عمر کی سطح کی کرکٹ میں کھیلتے ہوئے سر فراز خان اور دیگر معروف نوجوان کرکٹرز کے ساتھ بھی کرکٹ کھیلی ہے۔

کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے دی گئی اجازت کے مطابق انایا فوری طور پر کمیونٹی کرکٹ، جس میں پریمیئر کرکٹ بھی شامل ہے، میں حصہ لے سکتی ہیں۔ آسٹریلوی کرکٹ کی موجودہ رہنما ہدایات کے تحت کمیونٹی سطح پر ٹرانس جینڈر اور جینڈر ڈائیورس کھلاڑیوں کو ان کی صنفی شناخت کے مطابق کھیلنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

انایا نے اس پیش رفت کو اپنے لیے انتہائی جذباتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت انہیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید ان کا کرکٹ کیریئر ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا ہے، تاہم کرکٹ آسٹریلیا کے فیصلے نے انہیں دوبارہ اس کھیل میں واپسی کا موقع دیا ہے جس سے وہ بچپن سے وابستہ رہی ہیں۔

تاہم ایلیٹ سطح کی خواتین کی کرکٹ میں انایا کی شرکت کچھ شرائط سے مشروط ہوگی۔ کرکٹ آسٹریلیا کی پالیسی کے مطابق مارچ 2027 سے ایلیٹ کرکٹ میں کھیلنے کے لیے انہیں خون کے ٹیسٹ کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے خون میں سیرم ٹیسٹوسٹیرون کی سطح 10 نانومول فی لیٹر سے کم ہے اور وہ پالیسی کی دیگر تمام شرائط بھی پوری کرتی ہیں۔

ان شرائط کو پورا کرنے کی صورت میں انایا کے لیے ویمنز بگ بیش لیگ (WBBL) میں جگہ بنانے کا راستہ بھی کھل سکتا ہے، تاہم کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے اہلیت ملنے کا مطلب کسی ٹیم میں براہِ راست معاہدہ یا جگہ ملنا نہیں ہے۔ انہیں اپنی فٹنس اور کارکردگی ثابت کرنے کے بعد کسی فرنچائز کی توجہ حاصل کرنا ہوگی۔

دوسری جانب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) نے 2023 میں ایسی ٹرانس جینڈر خواتین پر ایلیٹ خواتین کی بین الاقوامی کرکٹ میں پابندی عائد کی تھی جنہوں نے مردانہ بلوغت کا مرحلہ گزارا ہو۔ اس لیے آسٹریلیا میں ممکنہ طور پر ایلیٹ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت ملنے کے باوجود انایا کے لیے بین الاقوامی خواتین کی کرکٹ کا معاملہ مختلف رہے گا۔

بھارت میں بھی اس معاملے پر صورت حال ابھی واضح نہیں۔ ایک سینئر بی سی سی آئی عہدیدار کے مطابق بورڈ کے پاس فی الحال ٹرانس جینڈر خواتین کی خواتین کی کرکٹ میں شرکت سے متعلق کوئی مخصوص پالیسی موجود نہیں ہے۔ انایا کے مطابق انہوں نے بی سی سی آئی سے اہلیت کے معیار کے بارے میں رابطہ بھی کیا تھا، تاہم انہیں جواب موصول نہیں ہوا۔

کرکٹ آسٹریلیا کی پالیسی کے تحت کمیونٹی کرکٹ میں شمولیت اور ایلیٹ کرکٹ کے لیے اہلیت کو الگ الگ دیکھا جاتا ہے۔ آسٹریلوی کرکٹ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد کھیل کو محفوظ، منصفانہ اور سب کے لیے جامع بنانا ہے۔

انایا بنگر کے لیے اب اگلا مرحلہ آسٹریلیا میں کلب اور پریمیئر کرکٹ کے ذریعے اپنی فٹنس اور مسابقتی فارم بحال کرنا ہے۔ اگر وہ ایلیٹ کرکٹ کی مقررہ شرائط پوری کرنے میں کامیاب رہتی ہیں تو 2027 میں ان کی ویمنز بگ بیش لیگ میں جگہ بنانے کی کوشش ایک نئے باب کا آغاز ہوسکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:8 + 3 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More