Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

امریکا یہ جان لے اگر ایران پر حملہ کیا تو جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی، آیت اللہ خامنہ ای

امریکا یہ جان لے اگر ایران پر حملہ کیا تو جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی، آیت اللہ خامنہ ای

امریکا ایران پر قبضہ کرکے اس کے وسائل، سیاست، سلامتی اور بین الاقوامی تعلقات پر دوبارہ غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے، سپریم لیڈر

رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اتوار کے روز خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے کسی نئی جنگ کا آغاز کیا تو وہ پورے خطے میں پھیلنے والے تنازع میں تبدیل ہو جائے گی۔

یہ انتباہ یکم فروری کو مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد سے ملاقات کے دوران دیا گیا، جو امام خمینیؒ کی تاریخی وطن واپسی اور اسلامی انقلاب کی فتح کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر شروع ہونے والی عشرۂ فجر کی تقریبات کے سلسلے میں منعقد ہوئی۔

رہبرِ انقلاب نے واضح الفاظ میں کہا،
“امریکیوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ اگر اس بار انہوں نے جنگ شروع کی تو وہ علاقائی جنگ ہوگی۔”

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا اور ایران کے درمیان دہائیوں پر محیط دشمنی کی وجوہات پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے، مگر ایرانی قوم اور اسلامی جمہوریہ اس کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
انہوں نے کہا،
“ایرانی قوم کا اصل ‘قصور’ یہ ہے کہ اس نے امریکا کو صاف الفاظ میں کہا کہ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ میرے ملک کو نگل سکتے ہو تو تم غلطی پر ہو۔”

رہبرِ انقلاب نے ایران کے قدرتی وسائل، جن میں تیل، گیس، قیمتی معدنیات اور اس کی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت شامل ہے، کو امریکا جیسے جارحانہ اور توسیع پسند ملک کی لالچ کی بنیادی وجہ قرار دیا۔
انہوں نے زور دیا کہ امریکا ایران پر قبضہ کرکے اس کے وسائل، سیاست، سلامتی اور بین الاقوامی تعلقات پر دوبارہ غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے، جیسا کہ پہلوی دور میں تھا۔
ان کے بقول،
“یہی ان کی دشمنی کی اصل وجہ ہے، جبکہ انسانی حقوق جیسے دعوے محض کھوکھلے نعرے ہیں۔”

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ایرانی قوم نے امریکی عزائم کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے، کر رہی ہے اور آئندہ بھی ثابت قدم رہے گی، اور دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بناتی رہے گی۔

امریکا کی جانب سے جنگ اور طیارہ بردار بحری بیڑوں کی دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے رہبرِ انقلاب نے کہا کہ ایسی باتیں کوئی نئی نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا،
“ماضی میں بھی کہا جاتا تھا کہ ‘تمام آپشن میز پر ہیں’، اور آج بھی یہی دعوے دہرائے جا رہے ہیں۔”

انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی قوم ایسی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگی۔
“ہم جنگ کے آغاز کرنے والے نہیں ہیں، نہ ہم کسی پر ظلم کرنا چاہتے ہیں اور نہ کسی ملک پر حملہ۔ لیکن جو بھی ایران کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا، اسے ایرانی قوم کی جانب سے سخت اور فیصلہ کن جواب ملے گا۔”

رہبرِ انقلاب نے حالیہ بدامنی کو امریکی اور صیہونی منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں “سرغنہ” اور “کارندے” شامل تھے۔ ان کے مطابق گرفتار ہونے والے کئی سرغناؤں نے اعتراف کیا کہ انہیں پیسے دیے گئے اور مراکز پر حملے، نوجوانوں کو اکسانے اور ہجوم کی قیادت کی تربیت دی گئی۔
البتہ انہوں نے کہا کہ کچھ نوجوان محض جذبات میں آ گئے تھے، اور ان کے ساتھ نظام کو بنیادی مسئلہ نہیں ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدر کے بیانات کو حالیہ فتنہ کی امریکی و صیہونی نوعیت کا کھلا ثبوت قرار دیا اور کہا کہ امریکی قیادت نے کھلے عام بلوائیوں کی حوصلہ افزائی کی، جبکہ ملک بھر میں لاکھوں افراد کے نظام کے حق میں نکلنے کو نظرانداز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ کا نیا نظریہ اور عالمی استکبار کے مفادات سے اس کا ٹکراؤ دشمنی کے تسلسل کی بنیادی وجہ ہے، اور ایسے فتنے مستقبل میں بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
ان کے بقول،
“یہ دشمنیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ایرانی قوم اپنے صبر، استقامت اور بیداری کے ذریعے دشمن کو مایوس نہ کر دے، اور ہم اس مرحلے تک ضرور پہنچیں گے۔”

رہبرِ انقلاب نے حالیہ بدامنی کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کے داعش نما تشدد کو قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ جیسے داعش نے کفر کے الزام میں لوگوں کو قتل کیا، ویسے ہی ان بلوائیوں نے مذہبی عقائد کی بنیاد پر نہایت سفاکی سے لوگوں کو قتل کیا، بعض کو زندہ جلایا اور بعض کے سر قلم کیے۔

خطاب کے اختتام پر آیت اللہ خامنہ ای نے یکم فروری کو ایک غیرمعمولی اور تاریخی دن قرار دیا اور 1979 میں امام خمینیؒ کی وطن واپسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے بے مثال استقبال نے نئے نظام کے قیام کی بنیاد رکھی اور اسی دن بادشاہت کے خاتمے کا اعلان ہوا۔

انہوں نے اسلامی جمہوریہ کی بنیادی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام نے آمریت کو عوامی اقتدار میں بدلا، مذہب دشمن عمل کو اسلامی عمل میں تبدیل کیا، ملک کو اس کے اصل مالک یعنی عوام کو واپس کیا اور ایران سے امریکی اثر و رسوخ کا خاتمہ کیا—اور یہی بات امریکا کی شدید ناراضی اور دشمنی کا سبب بنی۔

آیت اللہ خامنہ ای نے قوم میں خود انحصاری کے جذبے کو امام خمینیؒ کی عظیم میراث قرار دیتے ہوئے کہا،
“امامؒ نے ‘ہم نہیں کر سکتے’ کے تصور کو ‘ہم کر سکتے ہیں’ کے یقین میں بدل دیا۔”

انہوں نے مختلف شعبوں میں ایران کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ دن آ گیا ہے کہ امریکی، ایرانی ساختہ ڈرون جیسی ٹیکنالوجی کی نقل کر رہے ہیں، جو امام خمینیؒ کی دی ہوئی خود اعتمادی، امید اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More