بلوچستان کا حل صرف عسکری ہے، دہشت گردی کے واقعات میں مصالحتی پالیسی کی وجہ سے اضافہ ہوا، وزیراعلیٰ بلوچستان
آئین پاکستان کے بعد سب سے بڑی دسٹاویز نینشل ایکشن پلان ہے، میر سرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی نہیں اس کا صرف عسکری حل ہے۔ مجموعی طور پر 145 دہشت گردوں کی لاشیں سیکیورٹی اداروں کے پاس موجود ہیں۔
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ اس کا حل صرف عسکری ہے، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام طبقات کو ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔
جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2018 سے قبل ریاست کی پالیسی مصالحت پر مبنی نہیں تھی، تاہم بعد ازاں مصالحتی پالیسی اپنانے کے باعث دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دورانِ جنگ کسی قسم کی ابہام کی گنجائش نہیں ہوتی اور ہر طبقہ فکر کو ریاست کا ساتھ دینا چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے بعد نیشنل ایکشن پلان ملک کی سب سے اہم دستاویز ہے، جس پر سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو عوام کی دو سے تین فیصد سے زیادہ حمایت حاصل نہیں اور وہ کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
میر سرفراز بگٹی کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں ایک ہزار دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ بلوچستان میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی مجموعی تعداد چار سے پانچ ہزار سے زیادہ نہیں۔
گزشتہ روز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے دہشت گرد حملوں پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حملہ آوروں کی تعداد زیادہ سے زیادہ 200 تھی۔ انہوں نے بتایا کہ شعبان اور پنجگور میں حملوں سے متعلق پیشگی خفیہ معلومات موجود تھیں، تاہم ان حملوں میں 31 شہری اور 17 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ نوشکی میں کومبنگ آپریشن تاحال جاری ہے۔
قبل ازیں کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں کی کارروائیوں میں 31 معصوم شہری شہید ہوئے، جبکہ گوادر میں پانچ خواتین اور تین بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ہونے والا خاندان خضدار سے تعلق رکھتا تھا اور بلوچ تھا، تاہم دہشت گرد خود کو بلوچ کہلاتے ہیں مگر وہ بلوچ نہیں بلکہ دہشت گرد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغان عبوری حکومت نے دنیا سے وعدہ کیا تھا کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اطلاعات ہیں کہ ان دہشت گردوں میں افغان شہری بھی شامل تھے اور بشیر زیب، رحمان گل اور اللہ نظر اس وقت افغانستان میں موجود ہیں۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ دہشت گرد حملوں سے متعلق انٹیلی جنس رپورٹس پہلے سے موجود تھیں اور ایک دن قبل ہی آپریشن شروع کر دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں خودکش بمباروں سمیت 130 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ مجموعی طور پر 145 دہشت گردوں کی لاشیں سیکیورٹی اداروں کے پاس موجود ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گرد بھارت کے ایما پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور جب بھی پاکستان ترقی کی جانب بڑھتا ہے تو اس طرح کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کسی صورت سرینڈر نہیں کرے گی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔
