یمن جنگ سے کوئی تعلق نہیں، سعودی عرب کی درخواست پر عمان اجلاس ملتوی کیا ، اسماعیل بقائی
ایرانی وزرات خارجہ نے ٹرمپ کا پِک ایکس ماؤنٹین سے متعلق دعویٰ مسترد کر دیا
تہران: ایران نے پِک ایکس ماؤنٹین (کولانگ کوہ) میں کسی نئی سرگرمی سے متعلق رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کردیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پِک ایکس ماؤنٹین کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات میں کوئی حقیقت نہیں اور اس مقام پر کسی نئی سرگرمی کی رپورٹس بے بنیاد ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا پِک ایکس ماؤنٹین کے علاقے میں ہونے والی سرگرمیوں کی نگرانی کررہا ہے۔ انہوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے محتاط رہنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔
پِک ایکس ماؤنٹین ایران کے جوہری اور فوجی پروگرام سے متعلق امریکی خدشات کے باعث حالیہ عرصے میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ٹرمپ اس سے قبل بھی اس علاقے میں ممکنہ امریکی کارروائی کا عندیہ دے چکے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یمن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا یمن جنگ سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق حوثی اپنے مفادات اور ترجیحات کے مطابق آزادانہ فیصلے کرتے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے تہران اور خلیجی ممالک کے درمیان عمان میں ہونے والے اہم اجلاس کے ملتوی ہونے کی بھی تصدیق کردی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب نے اجلاس ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔ اجلاس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال سمیت خطے میں جاری کشیدگی اور دیگر علاقائی معاملات پر بات چیت متوقع تھی۔
عمان نے بھی اجلاس ملتوی کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد فریقین کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے زیادہ سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ تاہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
تہران اور خلیجی ممالک کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت میں ملتوی ہوئی ہے جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت، عالمی تیل کی سپلائی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سفارتی کوششوں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
اجلاس کا التوا خطے میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کو معمول پر لانے کے لیے جاری سفارتی رابطوں کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
