Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

چین کا امریکا پر ویننزویلا کے معاملے میں عالمی منصف بننے کا الزام عائد

چین کا امریکا پر ویننزویلا کے معاملے میں عالمی منصف بننے کا الزام عائد

تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کو بین الاقوامی قوانین کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ وانگ یی

چین کے اعلیٰ سفارتکاروں نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو گرفتار کر کے نیویارک میں مقدمہ چلانے کے ذریعے خود کو “عالمی منصف” ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اس اقدام کے بعد بیجنگ نے اسے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اقوام متحدہ میں واشنگٹن کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔

چین کی پالیسی ہمیشہ سے غیر مداخلت اور بین الاقوامی قانون کے تحت فیصلوں پر زور دیتی رہی ہے اور وہ سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر کسی فوجی کارروائی کو ناقابل قبول سمجھتا ہے۔ چین کے اسٹریٹجک شراکت دار وینزویلا کے رہنما کو امریکی فوج کی جانب سے رات کے اندھیرے میں گرفتار کرنا بیجنگ کے لیے ایک اہم امتحان ہے، جو عالمی بحرانوں کے حل میں اپنی حساسیت اور کردار کو برقرار رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کے دوران کہا، “ہم کسی ملک کو عالمی تھانیدار یا عالمی جج ہونے کا حق نہیں دیتے۔” انہوں نے وینزویلا کے اچانک پیش آنے والے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کو بین الاقوامی قوانین کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ یہ بیانات مادورو کی تصاویر منظرعام پر آنے کے بعد سامنے آئے، جن میں وہ آنکھوں پر پٹی اور ہاتھ پاؤں بندھے دکھائی دیے، جس نے عالمی سطح پر ہنگامہ برپا کر دیا۔

مادورو نے پیر کو نیویارک کی عدالت میں پیشی کے موقع پر اپنے خلاف لگائے گئے منشیات کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا۔ اسی دوران، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی اقدام پر بحث کی، جس میں چین اور روس نے کولمبیا کی درخواست کی حمایت کی۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے خبردار کیا کہ یہ اقدام “خطرناک مثال” قائم کر سکتا ہے۔

چین کے مستقل مشن برائے اقوام متحدہ کے قائم مقام چیف آف مشن سن لی نے کہا کہ تاریخ کے اسباق واضح کرتے ہیں کہ فوجی ذرائع مسائل کا حل نہیں اور طاقت کے بلاامتیاز استعمال سے صرف بڑے بحران پیدا ہوتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین، دنیا کی دوسری بڑی معیشت اور اہم تجارتی شراکت دار کے طور پر، واشنگٹن کے اقدامات پر تنقید کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ ایرک اولینڈر، شریک بانی چائنا گلوبل ساؤتھ پراجیکٹ، کے مطابق بیجنگ اس وقت وینزویلا کو مالی مدد فراہم کرنے کی زیادہ صلاحیت نہیں رکھتا، لیکن اقوام متحدہ اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں امریکی اقدامات کے خلاف رائے سازی میں اس کا کردار اہم ہو گا۔

چین کے لیے یہ معاملہ ایک بڑا دھچکا بھی ہے۔ امریکی صدر کے بیانات اور لاطینی امریکہ کے ممالک کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد، چین کی عالمی سیکیورٹی حکمت عملی کے تحت شامل ممالک سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ یہ معاہدہ انہیں حقیقی تحفظ فراہم کر سکتا ہے یا نہیں۔

بیجنگ نے پچھلے دو دہائیوں میں لاطینی امریکہ میں قابل ذکر سفارتی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس میں کئی ممالک کو تائیوان سے چین کی طرف متوجہ کرنا شامل ہے۔ وینزویلا کے ساتھ تعلقات 1974 سے قائم ہیں اور ہگو چاویز کے دور میں یہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔ مادورو کے اقتدار میں بھی چین نے وینزویلا کی تیل کی صنعت اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری جاری رکھی، جبکہ امریکہ کی طرف سے پابندیاں سخت ہوتی رہیں۔ 2024 میں چین نے وینزویلا سے تقریباً 1.6 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات خریدیں، جس میں تیل کی بڑی مقدار شامل تھی۔

چینی حکومت کے ایک اہلکار کے مطابق، مادورو کی گرفتاری اور امریکی اقدام چین کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا، کیونکہ بیجنگ ہمیشہ وینزویلا کے لیے ایک قابل اعتماد دوست بننے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More