Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

چینی کی ترسل پر بے جا پابندی لگانے سے مارکیٹ میں قلت پیدا ہونے سے قیمتیں مزید بڑھیں گی، شوگر ملز ایسوسی ایشن

چینی کی ترسل پر بے جا پابندی لگانے سے مارکیٹ میں قلت پیدا ہونے سے قیمتیں مزید بڑھیں گی،  شوگر ملز ایسوسی ایشن

پنجاب اور سندھ میں واقع شوگر ملوں سے یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ ایف-بی-آر  کے ملوں میں نصب ایس-ٹریک پورٹل بند ہونے کی وجہ سے ملوں سے چینی کی لفٹنگ بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کا تحفظات کا اظہار

اسلام آباد: ( اسپیشل رپورٹر)   پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر برائے غذائی تحٖفظ رانا تنویر حسین کو ایک خط  کے ذریعے  یہ باور کروایا ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے پنجاب اور سندھ میں واقع شوگر ملوں سے یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ ایف-بی-آر  کے ملوں میں نصب ایس-ٹریک پورٹل بند ہونے کی وجہ سے ملوں سے چینی کی لفٹنگ بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

ترجمان نے کہا  کہ اگرچینی کی  ترسیل پر بے جاپابندی لگائی جائے گی تو اس سے مارکیٹ میں چینی کی قلت ہو گی جس کے نتیجے میں قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ ماہِ ستمبر اورحالیہ ہفتے کے دوران پورٹل کی بندش کے باعث زیادہ تر ملیں چینی کی ترسیل نہیں کر سکیں جس کی وجہ سے قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گذشتہ کئی دنوں سے جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ میں واقع شوگر ملوں میں سے بیشتر کو مارکیٹ میں چینی بھیجنے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور ملوں میں موجود ایف-بی-آر کے نمائندے بھی ملز کے گیٹ پر چینی کی لفٹنگ کو باقاعدہ طور پر روک رہے ہیں۔ ایف بی آر ایس-ٹریک پورٹل کو بار بار بند کرنا اب ایک معمول بن چکا ہے جس کا  پہلے کوئی تصور نہ تھا۔

مزید یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ جو ایف بی آر اہلکاراس پورٹل کو چلانے کے ذمہ دار ہیں ان میں سے اکثر  غائب ہو چکے ہیں اور کچھ جگہوں پر پورٹل کے پاس ورڈ بھی تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پورٹلز کو جان بوجھ کر بلاک کیا جا رہا ہے تاکہ تقریباَ 8 بلین روپے کی تمام ڈیوٹیز اور ٹیکسز معاف کرکے  درآمد کی جانے والی چینی کی فروخت کو آسان بنانا مقصود ہے اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی اور جو کہ بالکل غیر قانونی ہے۔ ملکی چینی کی لفٹنگ کو روکنا اور 200 ملین ڈالرز کی  بلاضرورت درآمد کردہ سبسڈائزڈ چینی کی فروخت میں سہولت فراہم کرنا شوگر انڈسٹری کو مسابقت سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔

ترجمان نے مزید اس خدشہ کا اظہار کیا کہ ایسی پالیسی سے مارکیٹ میں شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔چینی کی لفٹنگ پر پابندی سے مارکیٹ میں سے چینی ناپید ہو گی جس کی وجہ سے قیمتیں میں بھی اضافہ ہوا ہے جس کیلئے انڈسٹری کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ان حالات میں حکومت سے درخواست کی جاتی ہے کہ ایف-بی-آر کی فیلڈ فارمیشنز کو ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ پورٹل کو بلاک نہ کریں تا کہ مارکیٹ میں چینی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

 


Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More