چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات سے متعلق پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 میں ترامیم قومی اسمبلی و سینیٹ سے منظور
دفاعی افواج کا ایک ہیڈ کوارٹر قائم کیا جائے گا جو چیف آف ڈیفنس فورسز کے ماتحت اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے گا،بل کے نکات
اسلام آباد: (خاورعباس شاہ) قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترمیم کے بلز کثرتِ رائے سے منظور کرلیے۔ دونوں ایوانوں میں بلز وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کیے، جبکہ اپوزیشن کے احتجاج اور واک آؤٹ کے باوجود قانون سازی کا عمل مکمل کرلیا گیا۔
قومی اسمبلی میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت اجلاس میں ڈیفنس فورسز ایکٹ ترمیمی بل 2026 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترمیم کا بل معمول کے ایجنڈے کو معطل کرکے پیش کیا گیا، جنہیں کثرتِ رائے سے منظور کرلیا گیا۔
بعد ازاں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت اجلاس میں بھی دونوں بلز پیش کیے گئے اور ایوان نے انہیں کثرتِ رائے سے منظور کرلیا۔
پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد دونوں بلز صدر مملکت کے دستخط کے لیے بھیجے جائیں گے، جس کے بعد وہ باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کرلیں گے۔
ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 میں اہم ترامیم
ڈیفنس فورسز ایکٹ ترمیمی بل 2026 کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کے عہدے کو آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت قانونی بنیاد فراہم کی گئی ہے۔
منظور شدہ بل کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی کمان، کنٹرول، تنظیم، تربیت، انتظامی امور، جنگی تیاری، مشترکہ آپریشنل صلاحیت اور تینوں سروسز کے درمیان رابطہ کاری سے متعلق اختیارات حاصل ہوں گے۔
بل میں ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز کے قیام کی شق بھی شامل ہے، جو مسلح افواج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے طور پر کام کرے گا اور اس کی سربراہی چیف آف ڈیفنس فورسز کریں گے۔
قانون کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز قومی سلامتی اور اہم دفاعی و عسکری معاملات پر وزیراعظم کو مشورہ دیں گے، جبکہ مشترکہ فوجی آپریشنز، تینوں سروسز کے درمیان رابطہ کاری اور قومی و علاقائی سلامتی سے متعلق امور میں بھی مرکزی کردار ادا کریں گے۔
ترمیمی بل میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات اور فرائض کو باقاعدہ قانونی شکل دی گئی ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز قانون کے تحت تفویض کردہ اختیارات استعمال کرسکیں گے جبکہ وزیراعظم کی منظوری سے انہیں اضافی اختیارات بھی تفویض کیے جاسکیں گے۔
بل میں چیف آف ڈیفنس فورسز کو قواعد و ضوابط وضع کرنے، ہدایات اور احکامات جاری کرنے کا اختیار دینے کی بھی تجویز ہے۔ کسی قانونی ابہام کی صورت میں صدر مملکت کے حکم کو حتمی قرار دینے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کے فوری نفاذ اور ایکٹ کے نفاذ سے قبل جاری کیے گئے احکامات، ہدایات اور اعلانات کو برقرار رکھنے کی بھی شق شامل ہے۔
نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں تبدیلیاں
قومی اسمبلی اور سینیٹ نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترمیم کا بل بھی منظور کرلیا۔
ترمیمی بل کے تحت نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے چیئرمین کی مدت پانچ سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس مدت میں توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
بل میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ کے مختلف مقامات پر موجود چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے حوالوں کو چیف آف ڈیفنس فورسز سے تبدیل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اتھارٹی کے ڈھانچے، ارکان اور بعض عہدوں میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
ترمیم کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے رکن ہوں گے، جبکہ نئے تخلیق کردہ عہدے کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کو بھی اتھارٹی کے ڈھانچے میں شامل کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ نومبر 2025 میں 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کرکے چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا منصب قائم کیا گیا تھا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ملک کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کیا گیا تھا۔
27ویں آئینی ترمیم کے تحت کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا نیا عہدہ بھی تشکیل دیا گیا، جو فور اسٹار رینک کا عہدہ ہے اور پاکستان کی اسٹریٹجک فورسز کے آپریشنل انضمام کی نگرانی کرتا ہے۔
اپوزیشن کا احتجاج اور واک آؤٹ
قومی اسمبلی میں دونوں بلز کی منظوری کے دوران اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا۔ بلز معمول کے ایجنڈے کو معطل کرکے الگ الگ پیش کیے گئے، جس پر اپوزیشن ارکان نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کی کوشش کی۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے اپوزیشن ارکان کو مائیک دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین روز کے دوران 40 ارکان کو پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کا موقع دیا جاچکا ہے، اس لیے مزید وقت نہیں دیا جاسکتا۔
اس کے بعد ایوان میں کشیدگی پیدا ہوگئی اور اپوزیشن ارکان احتجاجاً قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کرگئے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بلز کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ترامیم کے ذریعے دفاعی کمانڈ کے موجودہ قانونی ڈھانچے کو نئے آئینی فریم ورک سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے عہدے کی جگہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے منصب کو قانونی ڈھانچے کا حصہ بنایا گیا ہے۔
سینیٹ میں بلز پیش کیے جانے کے موقع پر اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے قانون سازی کے طریقہ کار پر اعتراض کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اپوزیشن ارکان کو تاحال بلز کی نقول فراہم نہیں کی گئیں۔
اعتراض کے بعد پی ٹی آئی، جے یو آئی اور ایم ڈبلیو ایم کے ارکان نے احتجاجاً سینیٹ اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور ایوان سے باہر چلے گئے۔
وفاقی کابینہ سے منظوری
پارلیمنٹ سے منظوری سے قبل وفاقی کابینہ نے بھی ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کے مسودے اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترمیم کی منظوری دی تھی۔
وزیراعظم آفس کے مطابق ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کا مسودہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت کی گئی تبدیلیوں کے تسلسل میں تیار کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے اور چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز سے متعلق انتظامی و قانونی امور کا تعین کرنا ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترمیم بھی 27ویں آئینی ترمیم کے بعد ضروری قانونی عمل کا حصہ ہے۔
دوسری جانب قانون سازی کے لیے ایوان میں عددی اکثریت برقرار رکھنے کی غرض سے مسلم لیگ (ن) نے اپنے تمام ارکان کو اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ پارٹی قیادت نے ارکان کو قانون سازی کے اہم مرحلے کے دوران سو فیصد حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی تاکہ دونوں بلز کی منظوری کے عمل میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہ ہو۔
