Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

پاکستان کا خطے میں اسلحے کی دوڑ روکنے پر زور، کشمیر سمیت تمام تنازعات مذاکرات سے حل کرنے کا مطالبہ

پاکستان کا خطے میں اسلحے کی دوڑ روکنے پر زور، کشمیر سمیت تمام تنازعات مذاکرات سے حل کرنے کا مطالبہ

بھارت کی بڑے پیمانے پر فوجی توسیع خطے میں عدم استحکام بڑھا رہی ہے، پاکستان دفاعی ضروریات کے مطابق صلاحیتیں برقرار رکھے گا۔ طاہر حسین اندرابی

 

نیویارک: پاکستان نے جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور اسلحے کی دوڑ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں ہتھیاروں کی غیر ضروری توسیع روکی جائے اور مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتا، تاہم اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے ضروری صلاحیتیں برقرار رکھے گا۔

 

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ دنیا میں جنگوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، بین الاقوامی قانون کی عمل داری کمزور پڑ رہی ہے اور تنازعات کے حل کے لیے تحمل اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کو پھیلنے سے روکنے، بین الاقوامی قانون کا احترام یقینی بنانے اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات دور کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ عالمی برادری کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے کشیدگی میں کمی آئے اور خطوں کو نئی جنگوں اور عسکری محاذ آرائی سے محفوظ رکھا جا سکے۔

طاہر حسین اندرابی نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ سفارتی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی صورت میں پیش رفت ہوئی، جو تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

پاکستانی مندوب نے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ طے پانے والے مکہ دفاعی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اقوام متحدہ کے منشور سے مطابقت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے انتظامات کو دفاعی مقاصد اور بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

جنوبی ایشیا کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان کے نقطہ نظر سے بھارت کے جارحانہ عسکری نظریات اور بڑے پیمانے پر فوجی توسیع کے باعث خطے میں عدم استحکام اور دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اسلحے کی دوڑ کو روکنا اور تمام ممالک کے جائز سلامتی کے خدشات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کا خواہاں نہیں، تاہم اپنی دفاعی ضروریات اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق دفاعی صلاحیتیں برقرار رکھے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جوہری صلاحیتوں کی موجودگی کو اس بات کی ضمانت سمجھنا درست نہیں کہ جنگ کو محدود یا قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق جوہری ہتھیاروں سے لیس خطے میں کسی بھی فوجی تصادم کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، اس لیے کشیدگی میں کمی اور تنازعات کا پرامن حل ناگزیر ہے۔

طاہر حسین اندرابی نے مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کے لیے مکالمے، سفارت کاری اور سیاسی حل کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے قیام کے لیے تنازعات کو حل کرنا، باہمی اعتماد کو فروغ دینا اور خطے کو مسلسل عسکری مقابلے سے بچانا ضروری ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بڑھتی ہوئی جنگوں، کمزور ہوتی بین الاقوامی قانونی عمل داری اور علاقائی کشیدگی کے تناظر میں امن، تحمل اور مذاکرات کے اصولوں کو مؤثر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:12 − 4 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More