Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

ٹی ٹی پی نے اپنی دہشت گرد حکمتِ عملی میں توسیع کر کے پاکستان اور چینی منصوبوں کو بھی ہدف بنانے کا اعلان کیا، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف

ٹی ٹی پی نے اپنی دہشت گرد حکمتِ عملی میں توسیع  کر کے پاکستان اور چینی منصوبوں کو بھی ہدف بنانے کا اعلان کیا، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف

پاکستان میں رواں برس ٹی ٹی پی کے 600 سے زائد حملے ہوئے جبکہ پاکستانی فورسز نے بہت سے حملے ناکام بنائے ہیں۔ رپورٹ

اقوامِ متحدہ کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے کیے جانے والے زیادہ تر دہشت گرد حملے افغان سرزمین سے منظم اور آپریٹ ہو رہے ہیں، جس کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ اور قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان حکومت کا یہ دعویٰ کہ ملک میں کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں، حقائق کے برعکس اور ناقابلِ اعتبار ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کی مسلسل کارروائیاں پاکستان کے لیے اس وقت سب سے بڑا اور فوری سکیورٹی چیلنج بن چکی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے تخمینے کے مطابق صرف 2025 کے دوران پاکستان میں ٹی ٹی پی کے 600 سے زائد دہشت گرد حملے متوقع ہیں، تاہم رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائیوں کے باعث ان میں سے بڑی تعداد کو ناکام بنایا گیا، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی سے بچاؤ ممکن ہوا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی نے اپنی دہشت گرد حکمتِ عملی میں توسیع کرتے ہوئے نہ صرف پاکستانی سکیورٹی فورسز بلکہ پاکستان اور چین کے مشترکہ ترقیاتی منصوبوں کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے، جس سے علاقائی سلامتی اور معاشی استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق داعش خراسان (ISIL-K) کو اگرچہ افغانستان میں دباؤ کا سامنا ہے اور اسے کسی حد تک کمزور کیا گیا ہے، تاہم یہ گروہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور افغانستان کے اندر اور باہر اب بھی شدید خطرہ بنا ہوا ہے۔

رپورٹ میں پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کوششوں کو سراہتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستانی اداروں نے داعش سے تعلق رکھنے والے کئی اہم دہشت گرد عناصر کو گرفتار کیا، جو خطے میں بڑے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ان کارروائیوں کو پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے اہم کامیابی قرار دیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ اکتوبر 2023 کے بعد افغان باشندوں کی واپسی کے عمل نے افغانستان کی پہلے سے کمزور معیشت اور بنیادی سروسز پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہاں سماجی اور معاشی عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دہشت گرد تنظیموں کی مسلسل موجودگی کے باعث افغانستان کو خطے میں عدم استحکام کا مرکز سمجھا جا رہا ہے، اور اس صورتحال کے براہِ راست اثرات پاکستان کی داخلی سلامتی، سرحدی امن اور مجموعی امن و امان پر مرتب ہو رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں اس وقت متعدد بین الاقوامی دہشت گرد گروہ فعال ہیں، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنجیدہ چیلنج ہے۔

رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن متاثرہ ملک ہے، جبکہ افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس خطے میں امن و استحکام کی راہ میں بنیادی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اور مؤثر اقدامات کرے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More