Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف، افغان طالبان رجیم پروپیگنڈے کا پردہ چاک

اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف، افغان طالبان رجیم پروپیگنڈے کا پردہ چاک

افغان سرکاری سوشل میڈیا ہینڈل سے پروپیگنڈے پر مبنی پوسٹ ڈیلیٹ کیے جانے پر بھی کئی سوالات پیدا ہوگئے

اسلام آباد:  افغان طالبان کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کا پردہ چاک ہوگیا جہاں ہسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف ہوا ہے۔

وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے کیے گئے فیکٹ چیک کے مطابق جس امید اسپتال کو افغان طالبان کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہ دراصل کیمپ فینکس (Phoenix  Camp) سے کئی کلومیٹر دور واقع ہے۔وزارت اطلاعات  کے مطابق اصل ہدف ایک عسکری مقام تھا جہاں دہشتگردوں کے اسلحہ اور بارود کا ذخیرہ موجود تھا، جسے گزشتہ رات درست نشانہ بنایا گیا۔

تصاویر سے واضح ہے کہ اصل ہسپتال ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے جبکہ نشانہ بنائی گئی جگہ کنٹینرز پر مشتمل عسکری/دہشت گرد انفرا اسٹرکچر تھا۔ یہ فرق خود ہی حقیقت کو واضح کرتا ہے،ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر یہ واقعی منشیات کے عادی افراد کے علاج کا مرکز تھا تو پھر اسے ایک ایسے فوجی کیمپ میں کیوں قائم کیا گیا جہاں مہلک اسلحہ اور بارود ذخیرہ کیا جاتا ہو؟  یہ تضاد خود اس دعوے کی حقیقت پر سوال اٹھاتا ہے۔

وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ایک اور اہم فیکٹ چیک جاری کرتے ہوئے افغان سرکاری سوشل میڈیا ہینڈل سے ایک پوسٹ اور ویڈیو ڈیلیٹ کیے جانے پر گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔مذکورہ آفیشل اکاؤنٹ کی جانب سے سب سے پہلے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ کسی منشیات بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم بعد ازاں اس متنازع پوسٹ کو اچانک ہی ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی تھی، جو متعدد بار کیے جانے والے فیکٹ چیکس کے سخت دباؤ اور جانچ پڑتال کا سامنا نہیں کر سکی۔اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے اپنے ہی سوشل میڈیا ہینڈل پر شیئر کی گئی ہیرا پھیری والی ویڈیو کو حقیقت ثابت کرنے کی کوشش بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

پاکستان، دہشت گردی کے خلاف اپنی جاری جنگ میں صرف ان عسکری اور دہشت گرد اہداف بشمول افغان طالبان رجیم کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، جو پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری، پناہ گاہ، تربیت یا حوصلہ افزائی کے لیے براہ راست یا بالواسطہ طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔

 کابل اور ننگرہار میں 16 مارچ 2026 کی رات کو کیے گئے حملے قطعی، دانستہ اور پیشہ ورانہ تھے۔  کوئی ہسپتال، کوئی منشیات کی بحالی کا مرکز، اور کسی شہری سہولت کی عمارت کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔  اہداف میں فوجی اور دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ تھا جس میں گولہ بارود اور تکنیکی آلات کے ذخیرہ کرنے کی جگہیں اور پاکستان کے خلاف دشمنی کی سرگرمیوں سے منسلک دیگر تنصیبات شامل تھیں۔

 جیسا کہ روایت ہے، تمام چھ حملوں کو فوری طور پر وزارت اطلاعات کی طرف سے ویڈیو فوٹیج کے ساتھ میڈیا کو فراہم کیا گیا، جس سے اہداف کی نوعیت سب کے لیے واضح ہو گئی۔ فراہم کردہ ویڈیوز و تصاویر شک کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتے۔  کابل میں آگ کے شعلے اور ثانوی دھماکے مزید اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ گولہ بارود کے ذخیرہ کرنے کی جگہ کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔

 موجودہ پروپیگنڈہ ایک ایسی حکومت کی طرف سے آرہا ہے جس کے عہدیداران نے بار بار جھوٹے بیانات، جھوٹے دعووں، پہلے کی پوسٹوں کو منتخب ڈیلیٹ کرنے، سامعین کو گمراہ کرنے اور سچائی کو چھپانے کے لیے پرانے تصویروں کی گردش پر انحصار کیا ہے۔  ان کا تازہ ترین الزام دھوکہ دہی کی بوسیدہ روایت کا حصہ ہے۔

 اصل مسئلہ بدستور برقرار ہے: پاکستان، خطے اور دنیا کو افغان طالبان حکومت کے زیر اثر علاقے سے دہشت گردی کے سنگین خطرے کا سامنا ہے۔  یہ خطرہ اور بھی وحشیانہ ہو گیا ہے، منشیات کے عادی افراد اور معصوم بچوں کا خودکش بم حملوں سمیت گھناؤنے مقاصد کے لیے استحصال کیا جا رہا ہے۔

 پاکستان کا موقف واضح ہے۔  ہم اپنے شہریوں کے دفاع، دہشت گردی کی صلاحیت کو کم کرنے اور سرحد پار سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کرنے والوں کو محفوظ پناہ گاہوں سے محروم کرنے کے لیے ہر ضروری اقدام کرتے رہیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More