فیلڈ مارشل عاصم منیر کل ایران کا اہم دورہ کریں گے، ایرانی وزارت خارجہ
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں کا تسلسل ہے۔ اسماعیل بقائی
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے خطے میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی سفارتی کاوشیں قابلِ اہمیت ہیں، جبکہ اسلام آباد کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کل ایران کا دورہ کریں گے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں کا تسلسل ہے۔
انہوں نے کہا کہ دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور خطے کی موجودہ صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے خطے میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی سفارتی کاوشیں قابلِ اہمیت ہیں، جبکہ اسلام آباد کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان گزشتہ روز ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی صورتحال، جاری کشیدگی اور امن و سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور مختلف ممالک سفارتی ذرائع سے تنازع کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کے لیے سفارتی کردار ادا کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
دورے کے دوران دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان علاقائی امن، دوطرفہ تعلقات اور مستقبل میں باہمی تعاون کے امکانات پر اہم مشاورت متوقع ہے۔
