عرب اسلامی سربراہ اجلاس میں وزیراعظم کی سعودی ولی عہد، ترک صدر سمیت عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں
اسرائیلی جارحیت مشرق وسطیٰ میں امن کی کاوشوں کو سبوتاژکرنے کی کوشش ہے، وزیر اعظم شہبازشریف
دو حہ: قطرکے دارالحکومت دوحہ میں عرب اسلامی ہنگامی سربراہ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد اور ترک صدر رجب طیب اردوان سمیت کئی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔
قطرکے دارالحکومت دوحہ میں عرب اسلامی ہنگامی سربراہ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت کئی ممالک کے سربراہان شریک ہوئے۔اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد اور ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقاتیں ہوئیں اور خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوا۔
وزیر اعظم اور سعودی ولی عہد نے اسرائیلی جارحیت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر گفتگو کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی جارحیت مشرق وسطیٰ میں امن کی کاوشوں کو سبوتاژکرنے کی کوشش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کو جنگی جرائم پر کٹہرے میں لانا ہو گا ، پاکستان دوحہ پر حملے کی کھلی مذمت کرتا ہے،شہباز شریف
ترجمان وزیراعظم ہاوس کے مطابق ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی موجود تھے، ملاقات دوحہ میں عرب سرابراہی کانفرنس کے موقع پر ہوئی۔ملاقات میں دوحہ پر حملے اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، وزیرِاعظم پاکستان نے اسرائیل کے اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک دانستہ کوشش ہے تاکہ مشرقِ وسطی میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کیا جا سکے۔
وزیرِاعظم نے امتِ مسلمہ کو یکجا کرنے میں ولی عہد محمد بن سلمان کی جرات مندانہ اور بصیرت افروز قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر وزیرِاعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان مکمل طور پر سعودی عرب کے ساتھ سفارتی سطح پر کھڑا ہے، بالخصوص اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں، جہاں پاکستان اس وقت غیر مستقل رکن ہے، نیز دیگر تمام کثیر الجہتی فورمز بشمول او آئی سی میں بھی۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ دوحہ میں ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کا انعقاد اس بات کا واضح پیغام ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان اسرائیل کی غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ جارحیت کے خلاف ایک آواز میں بول رہے ہیں، جو خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔وزیرِاعظم نے پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو ایک بار پھر دہرایا اور سعودی عرب کی طرف سے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کی غیر متزلزل حمایت پر ولی عہد کا شکریہ ادا کیا۔
ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا کہ وہ وزیرِاعظم پاکستان کے آئندہ سرکاری دورہ ریاض کے منتظر ہیں، جو اس ہفتے متوقع ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کو دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی امور پر جامع تبادلہ خیال کا اہم موقع فراہم کرے گا۔وزیرِاعظم نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے اپنے پر خلوص احترام اور نیک خواہشات بھی پہنچائیں۔ ولی عہد محمد بن سلمان نے وزیرِاعظم پاکستان کی قیادت اور قطر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے پاکستان کی فعال سفارتی کاوشوں، بالخصوص سلامتی کونسل اور او آئی سی میں کردار کی تعریف کی۔
اس کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف کی امیر قطر،فلسطینی صدر محمود عباس،تاجکستان اور مصر کے صدور سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔وزیراعظم شہباز شریف سے فلسطین کے صدر محمود عباس پرتپاک انداز اور گرمجوشی سے ملے۔
