حکومت ملکی ترقی وخوشحالی اور سیاسی ہم آہنگی کیلئے تمام سیاسی جماعتوں سے پرامن ڈائیلاگ کے اصولی موقف پر قائم ہے، وزیر اعظم
سیاسی ڈائیلاگ کی آڑ میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کر نے کی کسی مذموم کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، شہباز شریف
قومی اسمبلی میں پرائیویٹ ممبرز بلز اور دیگر قانون سازی کیلئے مؤثر انداز میں مشاورت کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی،وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس کا اعلامیہ
اسلام آباد :(نویز پلس) وزیراعظم محمد شہبازشریف نے ایک بار پھرکہا ہے کہ حکومت پاکستان ملکی ترقی وخوشحالی اور سیاسی ہم آہنگی کیلئے تمام سیاسی جماعتوں سے پرامن ڈائیلاگ کے اپنے اصولی موقف پر قائم ہے،سیاسی ڈائیلاگ کی آڑ میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کر نے کی کسی مذموم کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، پی آئی اے کی شفاف، مستند اور قابل اعتبار نجکاری کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، پوری قوم کو انڈر 19 کرکٹ چیمپین شپ جیتنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں جبکہ وفاقی کابینہ نے پٹرولیم ڈویزن کی سفارش پر آف گرڈ پاور پلانٹس لیوی ایکٹ 2025 کی توسیع تیسرے فریق کی جانب سے کیپٹیو پاور پلانٹس کو گیس کی فروخت،نیشنل یونیورسٹی فار سیکیورٹی سائنسز اسلام اباد 2025 کے بل کی تنسیخ، نیشنل کینبیز کنٹرول اینڈ ریگولیٹری پالیسی 2025، ویزا کلیئرینس نظام کی منظوری دیدی۔
جاری اعلامیہ کے مطابق منگل کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان ملکی ترقی وخوشحالی اور سیاسی ہم آہنگی کیلئے تمام سیاسی جماعتوں سے پرامن ڈائیلاگ کے اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔ انہوں نے کہاکہ ذاتی طور پر تمام سیاسی جماعتوں کو متعدد بار ڈائیلاگ کی پیشکش کی جا چکی ہے، سیاسی ڈائیلاگ کی آڑ میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کر نے کی کسی مذموم کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہپی ائی اے کی شفاف، مستند اور قابل اعتبار نجکاری کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے پوری قوم کو انڈر 19 کرکٹ چیمپین شپ جیتنے پر مبارک باد دی۔وفاقی کابینہ نے پٹرولیم ڈویژن کی سفارش پر آف گرڈ پاور پلانٹس لیوی ایکٹ 2025 کی توسیع تیسرے فریق کی جانب سے کیپٹیو پاور پلانٹس کو گیس کی فروخت پر بھی کرنے کی منظوری دے دی۔پبلک ٹینڈرنگ اور پروکورمنٹ کے تمام مراحل کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے وفاقی کابینہ نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس (پی پی آر اے آر ڈیننس 2002) میں ترامیم کی اصولی منظوری دی۔وفاقی کابینہ نے نیشنل یونیورسٹی فار سیکیورٹی سائنسز اسلام آباد 2025 کے بل کی تنسیخ کی منظوری دے دی۔وفاقی کابینہ نے قومی اسمبلی میں پرائیویٹ ممبرز بلز اور دیگر قانون سازی کے لیے مؤثر انداز میں مشاورت کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی۔وفاقی کابینہ نے نیشنل کینبیز کنٹرول اینڈ ریگولیٹری پالیسی 2025 کی منظوری دے دی. اس پالیسی کا مقصد ملک میں فارماسوٹیکل اور ٹیکسٹائل سیکٹر میں نباتاتی پودوں کے استعمال کا فروغ ہے۔وفاقی کا بینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر ویزا کلیئرینس نظام کی منظوری دے دی۔ اس نظام کا مقصد بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کو ایک شفاف اور محفوظ نظام کے تحت انکے ویزے کے حصول کو آسان بنانا ہے۔
وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹیو کیسز کے 20 اکتوبر، 2025 5 نومبر, 2025 اور 21 نومبر، 2025 کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 18 دسمبر، 2025 کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی۔قبل ازیں وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کو بتایا کہ پی آئی اے کی بولی کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے یکسوئی سے کام کیا اور اس عمل کو براہ راست نشر کرنے کا فیصلہ کیا، حکومت درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تندہی سے کام کررہی ہے،نجکاری کیلئے نائب وزیراعظم، وزیر دفاع اور وزیر خزانہ نے بہترین کاوشیں کی ہیں،پی آئی اے کی نجکاری کیلئے متعلقہ حکام اور کابینہ ارکان نے بھی بڑی عرق ریزی سے کام کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سربمہر لفافوں میں بولی کا عمل براہ راست دکھایا جارہاہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملکی تاریخ کی سب سے بڑی نجکاری ہونے جارہی ہے، اس معاملے پر وفاقی کابینہ میں سب کی رائے حاصل کی جائے گی۔ وزیراعظم نے سعودی عرب کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکو سعودی عر ب کے سب سے بڑیاعزاز”کنگ عبدالعزیز ایوارڈ“سے نوازے جانے پرمبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایوارڈ صرف ان کا نہیں یہ پوری قوم کیلئے باعث اعزاز ہے۔پی ٹی آئی کی طرف سے مذاکرات کی بات پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کو اسمبلی کے فلو ر سے بھی مذاکرات کی دعوت دی تھی اگر وہ تیار ہیں حکومت بھی مذاکرات کیلئے تیار ہے، سیاسی جماعتوں میں مذاکرات اور ہم آہنگی پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے ضروری ہے لیکن مذاکرات کی آڑ میں بلیک میلنگ نہیں ہونی چاہئے،ملک کو آگے چلنا چاہئے اور اس کیلئے حکومت ہر اقدام کیلئے تیار ہے۔
