Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کر دیا، ہر آئینی و قانونی فورم پر آواز اٹھانے کا اعلان

 بیرسٹر گوہر علی خان نےخیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کر دیا، ہر آئینی و قانونی فورم پر آواز اٹھانے کا اعلان  

وفاق سے ایمرجنسی واپس لینے کا مطالبہ، صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے ہر آئینی و قانونی فورم پر آواز اٹھانے کا اعلان

 

اسلام آباد: (نیوز پلس) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے سنگین سیاسی غلطی اور غیر جمہوری اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے ایمرجنسی واپس لے، زمینی حقائق کو سمجھے اور عوامی جذبات کا احترام کرے۔

 

اپنے بیان میں بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت کرتی ہے اور اس اقدام کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ ان کے بقول یہ ایک انتہائی تشویشناک فیصلہ ہے جس سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ اور جمہوری عمل کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اپنے آئینی حقوق کے خلاف ایسے اقدامات کو قبول نہیں کریں گے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے، جسے نظرانداز کرکے صوبائی خودمختاری کو کمزور کرنا اور وفاق و صوبے کے درمیان تصادم کی فضا پیدا کرنا مسائل کا حل نہیں۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات سے نہ امن قائم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی پائیدار استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔

بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور ملک میں امن و امان کے قیام پر کوئی اختلاف نہیں، تاہم دہشت گردی کا مقابلہ قومی یکجہتی، مشترکہ حکمت عملی اور مؤثر عملی اقدامات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو کمزور کرکے وفاق کو مضبوط نہیں بنایا جا سکتا، جبکہ طاقت، تصادم اور غیر معمولی اقدامات کے بجائے سیاسی بصیرت، آئین کی بالادستی اور بامعنی مذاکرات کو ترجیح دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر بھرپور آواز اٹھائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط صوبے ہی مضبوط وفاق کی بنیاد ہوتے ہیں اور آئین کی حکمرانی ہی ایک مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت سے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی وقت ہے اور اس فیصلے کو چند دنوں میں واپس لیا جا سکتا ہے۔ وفاق کو چاہیے کہ وہ اپنی انا ایک طرف رکھے، زمینی حقائق کو سمجھے، جائز مطالبات تسلیم کرے اور عوام کے احساسات و جذبات کا احترام کرے۔

بیرسٹر گوہر نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی فیصلوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو ملک کو مزید سیاسی اور معاشی نقصان پہنچنے کے ساتھ جمہوری عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی فیصلوں پر نظرثانی کمزوری نہیں بلکہ قومی مفاد میں دانش مندی کی علامت ہوتی ہے، اس لیے وفاقی حکومت کو کسی بڑے نقصان سے پہلے اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:6 × 5 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More