Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

انڈیا کا ’شانتی بل 2025‘: ایٹمی توانائی، ترقی کا خواب یا نئے خدشات؟

انڈیا کا ’شانتی بل 2025‘: ایٹمی توانائی، ترقی کا خواب یا نئے خدشات؟

انڈیا کی پارلیمان نے سال 2047 تک ایٹمی توانائی سے 100 گیگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے بڑے اور پرعزم ہدف کے تحت ایک اہم قانون منظور کر لیا ہے، جسے ’شانتی بل 2025‘ کا نام دیا گیا ہے۔
یہ بل جہاں حکمران جماعت کے نزدیک انڈیا کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل اور ماحولیاتی طور پر محفوظ بنانے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے، وہیں حزبِ اختلاف اسے عوامی تحفظ اور ماحولیاتی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دے رہی ہے۔

بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا، بل کو پارلیمانی مستقل کمیٹی کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا اور آخرکار ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا۔

شانتی بل 2025 کیا ہے؟

’شانتی‘ دراصل Sustainable Harnessing and Advancement of Nuclear Energy for Transforming India کا مخفف ہے۔
اس قانون کا بنیادی مقصد:

  • 2047 تک 100 گیگاواٹ ایٹمی بجلی کی پیداوار
  • نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو ایٹمی توانائی کے شعبے میں داخلے کی اجازت
  • جدید اور مقامی نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا فروغ
  • توانائی کے شعبے میں انڈیا کو خود کفیل بنانا

حکومت کے مطابق یہ ہدف انڈیا کی آزادی کے 100 سال مکمل ہونے تک ملک کو ایک مضبوط، خود مختار اور صاف توانائی پر مبنی معیشت بنانے کے وژن کا حصہ ہے۔

ایٹمی توانائی کیا ہے اور بجلی کیسے بنتی ہے؟

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے مطابق ایٹمی توانائی وہ طاقت ہے جو ایٹم کے نیوکلیئس سے خارج ہوتی ہے۔

بجلی پیدا کرنے کے لیے دنیا بھر میں اس وقت نیوکلئیر فِشن استعمال ہوتا ہے، جس میں:

  • یورینیم-235 کا ایٹم نیوٹرون سے ٹکرا کر ٹوٹتا ہے
  • حرارت اور شعاعیں پیدا ہوتی ہیں
  • یہ حرارت پانی کو بھاپ میں تبدیل کرتی ہے
  • بھاپ ٹربائن گھماتی ہے
  • ٹربائن بجلی پیدا کرتی ہے

یہ عمل بظاہر کوئلے یا گیس سے بجلی بنانے جیسا ہے، مگر فرق یہ ہے کہ ایٹمی بجلی میں کاربن اخراج نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔

انڈیا ایٹمی توانائی میں کہاں کھڑا ہے؟

اعداد و شمار کے مطابق:

  • انڈیا کی کل بجلی پیداوار میں ایٹمی توانائی کا حصہ: صرف 3.1 فیصد
  • موجودہ ایٹمی پیداواری صلاحیت: 8780 میگاواٹ
  • سال 2024-25 میں ایٹمی بجلی کی پیداوار: 56,681 ملین یونٹ

ماہرین کے مطابق یہ تناسب ایک ایسے ملک کے لیے بہت کم ہے جہاں آبادی ایک ارب 40 کروڑ سے زائد ہو اور معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہو۔

حکومت کا مؤقف: ترقی اور خود کفالت کی ضمانت

توانائی امور کے ماہر نریندر تنیجا کے مطابق انڈیا اس وقت شدید طور پر فوسل فیول پر انحصار کرتا ہے، جس کے اثرات آلودگی، ماحولیاتی تباہی اور درآمدی دباؤ کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے:

’’ہم تیل اور گیس درآمد کرتے ہیں، یہاں تک کہ شمسی توانائی کے لیے سولر پینل بھی باہر سے آتے ہیں۔ اگر ملک کو آلودگی سے نجات اور توانائی میں آزادی چاہیے تو ایٹمی توانائی ناگزیر ہے۔‘‘

حکومت کے مطابق:

  • ایٹمی توانائی 24 گھنٹے دستیاب رہتی ہے
  • یہ سولر اور ونڈ انرجی کی طرح موسم کی محتاج نہیں
  • 2070 تک نیٹ زیرو کاربن کے ہدف میں کلیدی کردار ادا کرے گی

اسی مقصد کے لیے نیوکلیئر انرجی مشن (NEM) کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت:

  • NPCIL غیر ملکی شراکت سے 54 گیگاواٹ بجلی پیدا کرے گا
  • پریشرائزڈ ہیوی واٹر اور لائٹ واٹر ری ایکٹرز لگائے جائیں گے

اپوزیشن کے شدید اعتراضات

1️⃣ نجی اور غیر ملکی کمپنیوں کا کردار

کانگریس رہنما منیش تیواری نے سوال اٹھایا کہ:

’’کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ایک نجی گروپ کے اعلان کے فوراً بعد یہ بل پیش کیا گیا؟‘‘

اپوزیشن کا خدشہ ہے کہ یہ قانون مخصوص کارپوریٹ مفادات کے لیے بنایا گیا ہے۔

2️⃣ حادثات اور ہرجانے کی حد

ششی تھرور نے بل کو:

’’نجی مفادات کے تحت جوہری توسیع کی خطرناک چھلانگ‘‘

قرار دیتے ہوئے کہا کہ:

  • حادثے کی صورت میں ہرجانہ 460 ملین ڈالر تک محدود ہے
  • فوکوشیما حادثے کے اخراجات 182 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے
  • چرنوبل کا مجموعی نقصان 700 ارب ڈالر سے زیادہ تھا

ان کے مطابق یہ حد عوامی تحفظ کے لیے انتہائی ناکافی ہے۔

3️⃣ عوام کو انصاف تک رسائی نہیں

بل کے تحت:

  • کسی حادثے پر صرف مرکزی حکومت یا ریگولیٹری ادارہ شکایت درج کر سکتا ہے
  • متاثرہ عوام، سول سوسائٹی یا ریاستی حکومتیں براہ راست کارروائی نہیں کر سکتیں

یہ شق اپوزیشن کے مطابق جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔

جوہری تحفظ پر ماہرین کا جواب

نریندر تنیجا کے مطابق:

  • ایٹمی توانائی میں حفاظت کا معیار کسی بھی اور صنعت سے کہیں زیادہ سخت ہوتا ہے
  • انڈیا کا نیوکلیئر سیفٹی ریکارڈ مضبوط ہے
  • تمام پلانٹس IAEA کے ضوابط کے تحت کام کرتے ہیں
  • ریڈیو ایکٹیو فضلے کے لیے بین الاقوامی قوانین موجود ہیں

وہ یاد دلاتے ہیں کہ انڈیا مقامی ٹیکنالوجی سے:

  • ایٹمی آبدوز
  • نیوکلیئر ری ایکٹر
    تیار کر چکا ہے، جو تکنیکی صلاحیت کا ثبوت ہے۔

دنیا میں ایٹمی توانائی کا منظرنامہ

  • دنیا کے 71 فیصد ایٹمی پاور پلانٹس صرف 5 ممالک کے پاس ہیں
  • امریکہ، فرانس، چین، روس اور جنوبی کوریا سب سے آگے
  • چین سب سے تیزی سے ایٹمی صلاحیت بڑھا رہا ہے

نتیجہ: امید یا خطرہ؟

شانتی بل 2025 انڈیا کے توانائی مستقبل کا رخ متعین کر سکتا ہے۔
یہ بل ایک طرف:
✔ توانائی خود کفالت
✔ کم آلودگی
✔ معاشی ترقی

کا وعدہ کرتا ہے،
تو دوسری طرف:
❌ حفاظتی خدشات
❌ عوامی حقوق پر سوال
❌ نجی مفادات کا خوف

بھی جنم دیتا ہے۔

اب اصل امتحان قانون سازی نہیں، بلکہ شفاف عمل، سخت نگرانی اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More