Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ، اقوام متحدہ کی رپورٹ پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتی ہے: ترجمان دفترِ خارجہ

افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ، اقوام متحدہ کی رپورٹ پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتی ہے: ترجمان دفترِ خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی پورے خطے کے امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹس پاکستان کے مؤقف کی واضح تائید کرتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے باوجود دوسری جانب سے اس کی پاسداری نہیں کی گئی اور سرحد پار سے دہشت گرد حملے مسلسل جاری رہے، جس کے باعث جنگ بندی برقرار نہ رہ سکی۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان کے پاس افغانستان میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی کے حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین پر معاونت حاصل ہونے کے قابلِ اعتماد شواہد سامنے آئے ہیں، جن میں انسانی ذرائع اور دیگر انٹیلیجنس معلومات شامل ہیں۔ ترجمان کے مطابق پاکستان کے پاس دہشت گرد عناصر کی تعداد، شناخت اور انہیں ملنے والی مالی معاونت سے متعلق معتبر رپورٹس موجود ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد عناصر نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں، جبکہ ان کی موجودگی افغانستان میں داخلی استحکام اور ترقی کی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس میں افغانستان میں مختلف دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر غیر ملکی دہشت گرد عناصر کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی روابط بدستور فعال ہیں اور دونوں ممالک کے سفیر اپنے اپنے دارالحکومتوں میں موجود ہیں۔ دو طرفہ معاملات سفارتی ذرائع سے زیرِ بحث آتے رہتے ہیں اور پاکستان خطے میں مسلسل سفارتی روابط اور بات چیت کی حمایت کرتا رہے گا۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے جنگ بندی کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کو روایتی سیز فائر کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جنگ بندی کا بنیادی مقصد افغانستان سے پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کو روکنا تھا، تاہم افغان سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملے فائرنگ کے مترادف ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے جنگ بندی پر نیک نیتی سے عمل کیا، مگر دوسری جانب سے اس کی خلاف ورزی کی گئی اور سرحد پار حملے جاری رہے، جس کے باعث جنگ بندی برقرار نہ رہ سکی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے دارالحکومت تہران میں ہونے والی علاقائی میٹنگ میں بھی افغانستان میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس اجلاس میں ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے معاملے کو وسیع علاقائی تناظر میں زیرِ بحث لایا گیا۔ ترجمان کے مطابق تہران میں ہمسایہ ممالک کے خصوصی نمائندوں کا اجلاس ایک علاقائی میکنزم کا حصہ تھا، جس کا مقصد اتفاقِ رائے اور باہمی مشاورت کو فروغ دینا ہے۔

بین الاقوامی استحکام فورس سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ اگرچہ بعض عالمی دارالحکومتوں میں اس حوالے سے مشاورت جاری ہے، تاہم پاکستان کو تاحال اس معاملے پر کسی مخصوص درخواست سے آگاہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی پاکستان نے اس حوالے سے کوئی فیصلہ کیا ہے۔

آسٹریلیا میں بونڈائی بیچ پر فائرنگ کے واقعے سے متعلق بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اس حملے کی تحقیقات آسٹریلوی حکام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کو افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ ترجمان کے مطابق ایک پاکستانی شہری کا نام اور تصویر بغیر تصدیق میڈیا پر دکھائی گئی، جس کے نتیجے میں غلط رپورٹنگ کی وجہ سے ایک بے گناہ فرد اور اس کے خاندان کو سنگین خطرات لاحق ہوئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارتی میڈیا نے واقعے پر غلط معلومات اور پروپیگنڈا پھیلایا، تاہم بعد ازاں یہ بات سامنے آئی کہ حملہ آور بھارتی نژاد اور بھارتی پاسپورٹ کا حامل تھا۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے زور دیا کہ دہشت گرد عناصر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور خطے میں پائیدار امن کے لیے ان عناصر کے خلاف مشترکہ اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More