Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

اسرائیلی فوج کا غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کا باضاطہ اعلان کے بعد کئی علاقوں سے انخلا شروع

اسرائیلی فوج کا غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کا باضاطہ اعلان کے بعد کئی علاقوں سے انخلا شروع

تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے تقریباً 2 ہزار فلسطینیوں کو رہا کیا جائے گا۔

غزہ: اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے، شدہ لائن سے پیچھے ہٹنے کا عمل بھی شروع ہو چکا

غزہ – اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی کے ابتدائی مرحلے میں حماس کے 11 قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے، جبکہ غزہ میں طے شدہ لائن سے پیچھے ہٹنے کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق جنگ بندی کے بعد غزہ کے شہری اپنے گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں، جب کہ اسرائیلی افواج نے کئی علاقوں سے جزوی انخلا شروع کر دیا ہے۔

اسرائیلی کابینہ کی منظوری اور امریکی کردار

اس سے قبل اسرائیلی کابینہ نے جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کی منظوری دی تھی۔ اس اہم اجلاس میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کُشنر، اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی شریک ہوئے۔

وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، جب کہ اسرائیلی فوج غزہ کے 53 فیصد حصے سے مرحلہ وار انخلا کرے گی۔

معاہدے کے مطابق حماس کو 72 گھنٹوں کے اندر تمام یرغمالی رہا کرنے ہوں گے، اور اس مدت کے دوران دونوں فریق مکمل جنگ بندی کے نفاذ کو یقینی بنائیں گے۔

امن معاہدے کا پس منظر

غزہ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے کئی ماہ سے مذاکرات جاری تھے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا، جسے پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کی حمایت حاصل ہوئی، اور اسرائیل نے بھی اس پر رضامندی ظاہر کی۔

بعد ازاں مصر میں حماس اور اسرائیلی حکام کے درمیان ثالثی کے ذریعے بات چیت ہوئی، جس کے نتیجے میں دو روز قبل حتمی امن معاہدہ طے پایا۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق، معاہدے پر مؤثر عملدرآمد کے لیے 200 اہلکاروں پر مشتمل ایک بین الاقوامی نگرانی فورس تشکیل دی جائے گی، جس میں مصر، قطر، ترکی، اور ممکنہ طور پر متحدہ عرب امارات کے فوجی شامل ہوں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More