Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

پاکستانی آم چین میں

چین میں پاکستانی آم کی زبردست مانگ ہے

 

                                                      shakir ullah

                                               تحریر: شاکراللہ، بیجنگ

 

 چین کے شمال مغربی صوبہ گان سو کے دارالحکومت  لانچو میں پہلی بار پاکستانی آموں کی کھیپ  پہنچی ہے۔ گان سو قدیم سلک روڈ کا  ایک اہم مقام تھا اور جدید بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے ۔

سندھڑی  آموں کی 18 ٹن  کی یہ کھیپ لاہور سے لان چو  ۱۱ جون کو پہنچی  ۔  یاد رہیں کہ پاکستان میں آموں کی دو سو پچاس سے  زائد مشہور اقسام پائی جاتی ہیں۔ ان میں سندھڑی، انور رٹول ، چونسہ اور  لنگڑا اپنے ذائقہ اور خوشبو اورمٹھاس کی وجہ سے زیادہ  مقبول  ہیں۔

سندھڑی  آم بنیادی طور پر حیدرآباد ، رحیم یار خان اور سندھ کے دوسرے  علاقوں میں  پید ہوتے ہیں اسی مناسب سے  اس کا نام سندھڑی پڑا۔ واضح رہے کہ پاکستان میں پھلوں کے بادشاہ کے نام سے مشہور پاکستانی” آم” اپنے ذائقے، خوشبو، مٹھاس اور دیگر خوبیوں کی بنا پر پوری دنیا میں مشہور ہے۔

چین میں پاکستانی آم کی زبردست مانگ  ہے اور لان چو شہر نے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا ہے ۔

یاد رہے کہ  آموں کی اس کھیپ کی  لانچو درآمد کے مختلف مرحلوں کے  دوران کووڈ- 19 کے تمام ایس او پیز  پر مکمل عمل داری  کی گئی ہے ، آم کو توڑنے والے اور پیک کرنے والے تمام عملہ کو قرنطین کروایا گیا تھا۔  آم برآمد کرنے والے تاجر سی چھوان اور گوانگ زو سے بھی نئے آرڈر کی توقع کر رہے ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ آم لے جانے کیلئے  چار ٹر طیارہ  کا استعمال کیا گیاہے  اس سے پہلے مسافربرادر جہازوں کے ذریعے  پاکستانی آم چین لائے جاتے تھے۔ پاکستانی آموں کو بڑی مقدار میں برآمد کرنے کیلئے چارٹرڈ طیارے کی خدمات حاصل کرنا آموں کی برآمدبڑھانے کیلئے اہم  پیش رفت ہے۔

موجودہ کھیپ درآمد کرنے والے  چینی درآمد کنندگان  پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ پندرہ  سالوں سے کام کررہے  ہے تاہم یہ پہلا موقع ہے  کہ  یہ درآمد کنندگان مکمل چارٹرڈ طیارہ پاکستان سے چین لے کر آئے ہیں ۔ درآمد کنندہ چین اور پاکستان کے مابین سفارتی تعلقات کے قیام کی 70  ویں سالگرہ کی مناسبت سے اس پیش رفت کو اہم قراردے رہے ہیں۔ ان کے مطابق تازہ آم کی برآمد میں اضافہ  کرنے کیلئے سڑک کا راستہ بہت مددگار ثابت ہوسکتاہے ۔

پاکستان زمینی راستے سے  بھی آم کی  نقل وحمل کی کوشش کر رہا ہے اور اگر خنجراب بارڈر سے  آم کی برآمد  ممکن ہوتی ہے  تو یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی۔جبکہ تیسرا طریقہ سمندر کے ذریعے بھیجنے کا ہے ، لیکن اس طریقہ کار کے لئے پچھلی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں  ہیں کیونکہ پاکستانی آم بہت میٹھے ہیں اور وہ زیادہ دنوں تک اپنی اصلی حالت برقرار نہیں رکھ سکتے ۔

پاکستانی آم  اپنے ذائقے اور خوشبو کی وجہ سے چین کے دوسرے حصوں میں بھی بہت مشہور ہیں ۔ اس وقت صرف ایئر کارگو کے ذریعے ہی آم  چین لے جایا جارہا  ہے۔  مسافر بردار طیاروں کے ذریعے  یہ بہت مہنگا ہے ۔  چینی لان مئی ایئر لائن نے  اس کھیپ کو ممکن بنانے میں مدد فراہم کی ہے۔جب کہ کچھ دیگر ایئر لائنز نے بھی آم کی نقل و حمل میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور یہ نقل و حمل کی لاگت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

پاکستانی آم کی مٹھاس اور ذائقے کی وجہ سے  چین  میں مقبولیت  کی وجہ سے امید کی جارہی ہے کہ  زیادہ تعداد میں آم کی خریداری کیلئے آڑدر موصول ہوں گے   اگر زیادہ تعداد میں  درآمد کنندگان  مل کر آم ، کارگو ایئر لائنز  کے ذریعے درآمد کریں گے تو لاگت  لاگت کم ہوگی  ۔اس مقصد کے لئے دونوں ممالک کی حکومتیں کوششیں کر رہی ہیں۔

 یاد رہے کہ پاکستانی سفارتخانہ ہر سا ل بیجنگ میں مینگو فیسٹیول کا نعقاد کرتاہے پچھلے سا لو کووڈ۔۱۹ کی وجہ سے اس فیسٹیول کا نعقاد نہیں ہوا تاہم  اس سال اگلے ماہ پاکستانی سفارت خانے میں مینگو فیسٹیول  کا انعقاد کیا جارہاہے  اس حوالے سے چینی درآمد کنندگان گرمجوشی کا اظہار کررہے ہیں پاکستانی سفارتخانے  کے مطابق بہت سی کمپنیوں نے فیسٹیول میں اندراج کے لئے درخواستیں دی ہیں۔ کووڈ کی وجہ سے  یہ فیسٹیول آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے  منعقد ہوگا ۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے پاکستانی آموں کو جنوب مغربی صوبہ یونان کے شہر کھن منگ میں لانے کی اجازت  ہے ،جہاں سے وہ  ملک کے دیگر حصوں کی منڈیوں میں تقسیم کیاجاتا ہے  اور اب یہ پہلا موقع ہے جب کسی اور چینی شہر (لان چو) میں بھی پاکستانی آم کو براہ راست لایا جا سکتا ہے اس کے لیے مقامی حکومت نے خاص اجازت دے رکھی ہے۔

۲۰۱۹ میں دونوں ملکوں  کے درمیان ہونے تجارتی معاہدے فیز ۲ کے تحت پاکستان کی چین کو برآمدات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے ۔ چین کی بہت بڑی منڈی ہے اور چینی منڈی اور چینی لوگوں کی قوت خرید بھی  مضبوط ہے اسلئے پاکستانی آموں کیلئے چینی منڈی  میں وسیع گنجائش اور مواقع موجود ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More