Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

سابق فاسٹ باؤلر محمد عامر نے برطانوی شہریت کے لئے درخواست دے دی

برطانوی شہریت ملنے کے بعد ان پر انٹرنشنل کرکٹ کے کئی راستے کھل جائیں گے

اسلام آباد (نیوزپلس)  پاکستان کرکٹ ٹیم سے دلبرداشتہ ہو کر انٹرنینشل کرکٹ سے ریٹائرڈ ہونے والے مایہ ناز سابق فاسٹ باؤلر محمد عامر نے باالاخر  برطانوی شہریت کے لئے باضابطہ طور پر درخواست دے دی ہے ،غیر ملکی میڈیا کے مطابق اگر انہیں برطانوی شہریت مل جاتی ہے ، تومحمد عامرکے لئے عالمی کرکٹ کے کئی راستے کھل جائیں گے۔ انگلینڈ کی کاونٹی کرکٹ کے علاوہ وہ دنیا کی سب سے بڑی کرکٹ لیگ آئی پی ایل میں بھی کھیل پائیں گے ۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ محمد عامر جب سے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر آباد کہا ہے تب سے وہ اپنے خاندان کے ساتھ برطانیہ میں ہی رہائش پذیر ہیں

واضح رہے کہ فاسٹ باؤلر محمد عامر کی بیوی برطانوی شہری ہیں  نے انہوں نے انٹرویو میں بھارتی کرکٹ کی تعریف کی۔

اپنے ایک انٹرویو میں محمد عامر نے قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ سمیت پی سی بی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں نوجوان کھلاڑیوں کو انتہائی کم تجربہ پر ہی انٹرنیشنل ڈیبیو کرایا جارہا ہے۔ پاکستانی سلیکٹرز کو دوسری مضبوط ٹیموں سے کچھ سیکھنا چاہئے۔ بھارت، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کو دیکھئے، وہ کس طرح کے کھلاڑی انٹرنیشنل کرکٹ میں لارہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ بھارت، انگلینڈ، نیوزی لینڈ کے کے کھلاڑی انٹرنیشنل کرکٹ میں کھیلنے کیلئے بالکل تیار ہیں۔ وہ اس لئے کیونکہ انہوں نے جونیئر اور گھریلو سطح پر کافی کرکٹ کھیلی ہے ۔ جب ان کا سلیکشن ہوتا ہے تو وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں جو کچھ انہوں نے گھریلو کرکٹ سے سیکھا ہوتا ہے ان کا مظاہرہ وہ بین الاقوامی سطح پر کرتے ہیں ۔

محمد عامر کا مذید کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت یہ ہورہا ہے کہ کھلاڑی سوچ رہے ہیں کہ وہ قومی کوچ سے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتے ہوئے سیکھیں گے۔  انہوں نے بھارتی کرکٹ ٹی کی تعریف کرتے کہا کہ آپ آئی پی ایل میں بھارتی بیٹسمین ایشان کشن، سوریا کمار یادو اور کرنال پانڈیا کو دیکھئے، وہ انٹرنیشنل کرکٹ کیلئے بالکل تیار نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے جب ڈیبیو کیا تو لگا ہی نہیں انہیں ٹیم کو کوچ سے زیادہ مدد کی ضروت ہے ۔ انہوں نے کافی وقت تک گھریلو کرکت کھیلی ہے اور آئی پی ایل کے آنے سے انہیں کافی مدد ملی ہے ۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More