Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

ہم نصیب معاشرے سے ہم نصیب خلا تک

چین تمام بنی نوع انسان کے لئے مشترکہ خلا کا خواب دیکھتاہے ، اوراپنے خلائی اسٹیشن کو ہر ایک کے لئے خلا میں ایک مشترکہ گھر سمجھتا ہے

 

                                                           shakir ullah

                                                        تحریر: شاکراللہ

                                                             

چین اپنی ترقی کے ثمرات اور کامیابیاں دوسرے ممالک اور دنیا کے عوم کےساتھ بانٹتاہے۔ چین بین نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی بات کرتاہے۔ اسی وجہ سے چین نے وبا کے دنوں سب سے پہلے ویکسین کی منصفانہ اور مساویانہ تقسیم کیلئے آواز اٹھائی اور خبردار کیا کہ جب تک دنیا کے سب انسان وبا سے محفوظ نہیں ہوتے وبا کا خطرہ سب کیلئے  برقرررہے گا اور ویکسین کی ذخیرہ اندوزی سے متعلق خبردار کیا ۔

 

china vaccine

 

اسی طرح چین کا بیدو نیوگیشن نظام متعدد ممالک کو فائدہ پہنچارہاہے ۔ چین کے عالمگیر منصوبے ، میاکانزم  اور مختلف ملکوں کے ساتھ تعلقات میں مرکزی نکتہ عوام کی خوشحالی ہی رہاہے ۔ چین دنیا کے تمام عوام  کی  خوشحالی چاہتاہے اور چین کی کوششوں میں ہمیشہ ایک نکتہ غالب رہتاہے عوام کو اولین اہمیت دینا۔ چین  یہی نکتہ پوری دنیا کی ترقی کیلئے تجویز کرتاہے۔ خلاوں کی تسخیر  کے معاملے  میں بھی چین اپنی کامیابیاں دنیا کے ساتھ بانٹنا چاہتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ چین خاص طور پر غریب اور  ترقی پذیر ممالک میں ہر دلعزیز ملک بن گیاہے ۔

انتیس اپریل کی رات گیارہ بج کر گیارہ منٹ پر چین کے وین چھانگ اسپیس لانچ سائٹ سے چین کے اسپیس اسٹیشن کا کور ماڈیول کامیابی کے ساتھ لانچ کیا گیا ۔ یہ لانچنگ چین کے خلائی اسٹیشن مشن کے نئے دور میں کامیابی کا اعلان ہے۔ مذکورہ کور ماڈیول کی مجموعی لمبائی 16.6 میٹر، قطر 4.2 میٹر اور ٹیک آف وزن بائیس اعشاریہ پانچ ٹن ہے۔ یہ مستقبل میں خلائی اسٹیشن کے انتظام اور کنٹرول کا مرکزی حصہ  ہے

 

china navigation system

 

جس میں تین خلاباز سائنسی تحقیق کے لیے طویل عرصے تک قیام کر سکتے ہیں۔ خلائی اور زمینی ماحول کے درمیان وسیع ماحولیاتی تفریق کے باعث کور ماڈیول کے موجودہ خلائی سفر کے دوران خلائی اسٹیشن کی نئی ٹیکنالوجی کی توثیق کی جائےگی مثلاً روبوٹ آرم ٹیکنالوجی وغیرہ۔ بعد میں چینی خلاباز ماڈیول کے باہر ایک سے زیادہ خلائی مشن سرانجام دیں گے۔

چینی خلائی اسٹیشن کے تعمیراتی مشن کے منصوبے کے مطابق سال 2021تا 2022کے دوران گیارہ لانچنگ مشنز عمل میں لائے جائیں گے۔ جن میں تین خلائی اسٹیشن ماڈیول کی لانچنگ، کارگو خلائی جہاز کی لانچنگ اور خلائی جہازوں کی لانچنگ شامل ہیں۔ماس خلائی اسٹیشن کی 2022 تک مدار میں تکمیل کی جائے گی۔ چین کا خلائی اسٹیشن مسلسل پندرہ سال تک مقررہ مدار میں کام کر سکےگا۔

یہ کامیابی آسانی سے ممکن نہیں ہوئی ۔ اس سفر کا آغاز اس وقت ہوا جب  چین کو امریکی غلبے کے شکار بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے "کلب” سے خارج کردیا گیا ۔ صرف یہی نہیں ، بعض مغربی سیاستدان جو "تعصب  کی عینک” سے چین کی ترقی کو دیکھتے ہیں ، خلائی میدان کو آئندہ کی جنگوں اور اسلحے کی دوڑ کے لئے اہم میدان جنگ سمجھتے ہیں اور خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کے خلاف سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہیں۔ 2011 میں ، امریکی کانگریس نے "ولف ایکٹ” متعارف کرایا ، جس میں نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن اور اس  کے ساتھ معاہدہ کرنے والی امریکی خلائی کمپنیوں کو چینی خلائی ایجنسیوں کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ اور تعاون کرنے سے منع کیا گیا ۔ ان پابندیوں کے باوجود، چائنا ایرو اسپیس نے ترقی کا سفر جاری رکھا اور مسلسل جدوجہد سے موجودہ کامیابی حاصل کی۔ چین ہمیشہ پرامن ، مساوات ، باہمی فائدے اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر کاربند رہا ہے۔ چین نے ہمیشہ خلائی اسٹیشن کو سائنسی اور تکنیکی تعاون کے لئے ایک کھلا پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی ہے۔

چینی اسپیس اسٹیشن کور ماڈیول کا نام "تھین حہ ” ہے ۔ چینی زبان میں، "تھین ” کو آسمان سے موسوم کیا جاتا ہے، اور "حہ ”  کا مطلب ہے ہم آہنگی۔ چین نے "افلاک اور زمین کے درمیان ہم آہنگی” اور "قدرت اور انسان کے درمیان ہم آہنگی” کی امید ظاہر کرتے ہوئے خلائی اسٹیشن کے کور ماڈیول کو "تھین حہ ” کا نام دیا ہے۔ افلاک، زمین اور لوگوں کے مابین ہم آہنگی قدیم چینی فلسفیانہ افکار کا مظہر ہے، اور یہ چینی کائناتی تصور بھی ہے۔

اس لامحدود کائنات کی  کھوج کبھی ختم نہیں ہوگی۔ انسان  خلا میں رہنے اور کام کرنے کے لئے نت نئی ٹیکنالوجی تیار  کررہا ہے  ، سیاسی تعصب اور خلائی تحقیق کی لاگت کچھ ممالک کے خلاء میں جانے کی راہ میں آڑے آرہی ہے ۔ چین تمام بنی نوع  انسان کے لئے مشترکہ خلا  کا خواب دیکھتاہے ، اوراپنے خلائی اسٹیشن کو ہر ایک کے لئے خلا میں ایک مشترکہ گھر سمجھتا ہے۔

چین بیرونی خلا میں امن برقرار رکھنے کے لئے پرعزم ہے۔ ۲۰۱۶ میں شائع ہونے والے ایک وائٹ پیپر میں کہا گیا کہ چین پرامن مقاصد کے لئے بیرونی خلا کو استعمال کرنے کے اصول پر عمل پیرا ہے اور بیرونی خلا میں اسلحہ سازی کی یا اسلحے کی دوڑ کی مخالفت کرتا ہے۔

2016 میں ، چین نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے بیرونی خلائی امور کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ، جس  کی رو سے چین  نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک ، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کو خلا سے متعلق اپنی  ٹیکنالوجیز اور تجربات  پیش کرنے کی پیشکش کی۔

۲۰۱۸میں ، چین نے اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک کو پودوں  کی نگہداشت سے لے کر خلانوردوں کی رہائش تک کی سرگرمیوں کے لئے اپنے خلائی اسٹیشن کو استعمال کرنے  کیلئے خو ش آمدید کہا۔یہ اقدام چین کے اس اٹل یقین کو ظاہر کرتا ہے کہ بیرونی خلا انسانیت کا مشترکہ  میراث ہے۔

۲۰۱۹میں ، چین کی آدم بردار اسپیس ایجنسی اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے بیرونی خلائی امور نے چین کے خلائی اسٹیشن کے لئے نو بین الاقوامی منصوبوں  کا اعلان کیا۔کچھ غیر ملکی خلائی ایجنسیوں نے  چین کے ساتھ تعاون کی پیش کی ہے ، چین غیر ملکی خلابازوں کو اپنے خلائی پرواز کے مشنوں میں حصہ لینے ، اور مستقبل میں اپنے خلائی اسٹیشن پر کام کرنے اور رہائش پذیر دیکھنے کا منتظر ہے۔

اچھی طرح سے منظم بین الاقوامی تعاون سے انفرادی ممالک کے خلائی پروگراموں کے اخراجات کم ہوسکتے ہیں ، بہتر بین الاقوامی تفہیم کو فروغ مل سکتا ہے اور پرامن مستقبل کی تعمیر میں مدد مل سکتی ہے۔

خلائی تحقیق ہمیں زمین پر چیلنجوں اور  مسائل کے بارے میں بہتر نقطہ نظر  فراہم کرتا ہے۔ خلا میں تحقیق اور ترقی نے بہت سی ٹکنالوجی کو نمایاں طور پر آگے بڑھانے اور کچھ اہداف کا ادراک کرنے میں مدد فراہم کی ہے ۔ چین کا خلائی سٹیشن پوری دنیا کے خلانوردوں اور خلائی تحقیق کیلئے بہتیرین پلیٹ فارم مہیا کرتاہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More