Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

افغانستان سے متعلق تعاون اور مثبت رویے کی ضرورت

چین خطے میں امن اور عوام کی خوشحالی کا خواہاں ہے

 

                                                         

                                               تحریر: شاکراللہ، بیجنگ

 

امریکی انخلا کے بعد افغانستان کو خوشحال بنانے کیلئے دو امور  انتہائی اہم  ہوں گے  ایک پائِیدار امن کا قیام اور دوسرا تعمیر نو اور بحالی کا کام۔ان دونوں  کیلئے  بین الاقوامی برادری کاتعاون اور مختلف ممالک کا مثبت کردار انتہائی ضروری ہوگا۔

US-Army

افغانستان اس وقت ایک کلیدی مرحلے میں داخل ہورہا ہے  ۔ یاد رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن افغانستان سے اپنی  فوج کی واپسی کا اعلان کر چکے ہیں۔امریکی پلان کے مطابق افغانستان میں موجود تمام فوجیوں کو 11 ستمبر تک واپس بلا لیا جائے گا جبکہ انخلا کاعمل یکم مئی سے شروع ہورہاہے  اس کے ساتھ ساتھ مغربی ملکوں کےعسکری اتحاد نیٹو نے بھی افغانستان سےتمام نیٹوافواجواپس بلانے کا علان کردیا ہے اور نیٹو فوجیوں کی واپسی کا آغاز بھی یکم مئی سے ہورہا ہے ۔۔

Nato troops

اعلان کے مطابق افغانستان سے تقریباً سات ہزار نیٹو فوجی واپس  بلائیں جائیں گے اور پورا فوجی انخلا چند ماہ کے دوران مکمل ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ افغانستان میں امریکہ کے لگ بھگ ڈھائی ہزار فوجی موجود ہیں جب کہ نیٹو کے 7000 فوجی افغان فورسز کی تربیت کے لیے موجود ہیں۔ صدرجوبائیڈن کی حکومت کےدورانیہ انخلاءامریکا کی اب تک کی طویل ترین بیس سالہ افغانستان جنگ کا اختتام ہو گا۔

ان اعلانات کے بعد افغانستان کے مستقبل کے بارے میں افغان عوام کے علاوہ افغان مسئلے سے متعلق تمام فریق فکر مند  ہیں اور افغانستان کے مستقبل کے بارے میں شکوک وشبہات کا اظہار کررہے ہیں۔

کسی کے پاس کوئی واضح پلان نہیں ہے کہ آگے کیا کرنا ہے اور نہ ہی افغان مسئلے سے متعلق افغان فریقوں میں کوئی اتفاق رائے مو جود ہے ۔ اشرف غنی اور افغان مسئلے کے بڑے افغان فریق طالبان کے درمیان ابھی تک امن  کے قیام اور افغانستان کے مستقبل کے بارے میں کوششیں  ناکام ثابت ہوئی ہیں ۔امریکہ کو بھی یقین نہیں کہ انخلا کے بعد کیا ہوگا امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ ​صدر جوبائیڈن کی جانب سے افغانستان میں طویل ترین جنگ کے خاتمے اور 11 ستمبر تک امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد کوئی بھی یہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ افغانستان میں کیا ہو گا۔ جیک سلیوان نے کہا کہ امریکہ افغان سیکیورٹی فورسز، افغان حکومت اور افغان عوام کے وسائل، استعداد اور تربیت کے لیے جو کرسکتا تھا وہ انہیں فراہم کیا گیا ہے۔افغانستان کے مستقبل کے بارے میں کئی ممالک اہم ہیں امریکہ کے بعد پاکستان، ایران روس اور چین وہ ممالک ہیں جن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں  اس کے علاوہ سعودی عرب قطر  بھارت  اور ترکی وہ ممالک ہیں جو افغانستان کے مستقبل سے متعلق ہیں۔

افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے حال ہی میں ہونے والی کوشش  یعنی استنبول کانفرنس بھی  ملتوی ہوگئی ہے  ۔ استنبول کانفرنس میں طالبان نے یہ کہہ کر شرکت سے انکار کیا ہے کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغان خود کریں گے جس کے بعد ترک وزیر خارجہ نے اس کانفرنس کو رمضان کے آخر تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تا دم تحریر استنبول کانفرنس کی نئی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔

کافی تجزیہ کار سمجھتےہیں کہ امریکہ افغانستان سے اپنی افواج نکال بھی دیں پھر بھی بلا واسطہ یا بالواسطہ افغانستان میں اپنی موجودگی موثر انداز میں جاری رکھے گا۔ اور اپنے اہداف کاتعاقب کرے گا۔ اور اس بات کا اظہار جیک سلیوان نے ایک انٹرویو کےدوران کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجیوں کا انخلا اس بات کی تصدیق ہے کہ امریکہ کو گزرے 20 برسوں کے بجائے اگلے 20 سال کی لڑائی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکی انخلا کے بعد  افغانستان میں تعمیر  نو او ر بحالی کے عمل کیلئے بین الاقوامی برادری کی مدد کی اشد ضرورت ہوگی۔ تعمیر نو اور بحالی کا عمل اگر صحت مند انہ انداز میں جاری رہتا ہے تو افغانستان میں جنگ کی تباہ کاریوں کے نقصان کے ازالے کا عمل تیزی سے آگے بڑھ سکتاہے ۔

چین خطے میں امن اور عوام کی خوشحالی کا خواہاں ہے۔ چین  پوری دنیا اور خاص طور پر ایشیائی خطے کے  عوام کی خوشحالی  کا خواہش مند  ہے اور اس کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھاتا ہے اور خدمات سرانجام دیتا  ہے ۔حال ہی میں چین نے  افغانستان کو ہنگامی خوراک کی امداد فراہم کی ۔

اس موقع پر  افغانستان میں چینی سفیروانگیو نےکہا کہ چین اور افغانستان اچھے ہمسائے ، اچھے دوست اور اچھے ساتھی ہیں۔ دونوں  ممالک ایک دوسرےکی مدد کرتے رہے ہیں ۔حالیہ برسوں میں چین نےافغانستان کو تیرہ ہزارٹن خوراک کی امداد فراہم کی ہے جس سے لاکھوں افغان عوام نےفائدہ اٹھایا ہے۔انسداد وبا کےلئے بھی چین نے متعدد بارافغانستان کوطبی امداد فراہم کی ہے۔ چین مستقبل میں بھی افغانستان کی تعمیرنومیں شامل ہونے کےلئے تیار ہے۔ چین افغان عوام کی قیادت میں  افغان عوام کی امنگوں کے مطابق امن عمل کی حمایت کرتا ہے۔ اورعالمی براداری کے ساتھ افغانستان کےروشن مستقبل کی تعمیرکی حمایت کرتا ہے۔امید ہے  عالمی برادری اور مختلف ممالک بھی افغانستان کی تعمیر نو اور پائیدار امن کے قیام میں اپنا اپنا کردار زمہ داری کے ساتھ ادا کریں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More