Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

ورلڈ اکنامک فورم کا پاکستان کی ماحول دوست پالیسیوں کا اعتراف

عالمی ادارے کرونا وبا کے دوران سرسبز پاکستان کے ایکشن پلان کے معترف ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان

وزیر اعظم عمران خان کی کوششوں کی بدولت کرونا وبا کے دوران سرسبز پاکستان کے ایکشن پلان انتہاہی کامیاب رہا جس کا اعتراف  عالمی ادارہ ورلڈ اکنامک فورم نے پاکستان کی ماحول دوست کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں پاکستان کی کاوشوں کو سراہا گیا ہے۔

 

اسلام آباد: (نیوزپلس خصوصی رپورٹ) عالمی ادارہ ورلڈ اکنامک فورم نے پاکستان کی ماحول دوست کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی جس میں پاکستان کی کاوشوں کو سراہا گیا ہے۔


ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق پاکستان تین طرح سے اپنے مستقبل کو سرسبز کررہا ہے، پاکستان 2030 تک 60 فیصد بجلی قابل تجدید وسائل سے حاصل کرے گا، درخت لگانے کا عمل شروع کرکے جنگلات کا تحفظ یقینی بنایا جارہا ہے۔


عالمی ادارے کے مطابق پاکستان گرین اسپیس میں سرمایہ کاری کررہا ہے،   اب تک گرین اسپیس میں180 ملین ڈالرکے سرمایہ کاری حاصل کرلی ،ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق پاکستان نے 15 نئے نیشنل پارک بنائے، 500 ملین ڈالر کے گرین یورو بانڈ لانچ کیے۔

اعترافی ویڈیوں میں کہا گیا ہے کہ پاکستان جلد اپنے گرین اسپیس کو مالیاتی ویلیو دے گا، کورونا کی وبا اور ماحولیاتی تغیر نے ہماری زندگیوں کو خطرات سے دوچار کررکھا ہے، 10 لاکھ جانور اور زمینی حشرات بقا کے رسک پر ہیں۔

سا حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے خصوصی  پیغام میں کہا کہ عالمی ادارے کرونا وبا کے دوران سرسبز پاکستان کے ایکشن پلان کے معترف ہیں، گرین ریکوری پروگرام اورکلائمیٹ ایکشن پلان کو عالمی سطح پر پزیرائی ملی۔

وزیراعظم نے اپنے پیغام کے ساتھ ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے پاکستان کی ماحول دوست کوششوں پر بنائی گئی ایک منٹ اکیس سیکنڈز کی ویڈیو بھی شیئر کی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے شجرکاری مہم کے ذریعے ملک بھر میں سوا ارب سے زائد درخت لگانے کا پروگرام ہے، منصوبے کا ابتدائی تخمینہ 22 ارب روپے لگایا گیا تھا، تاہم پی ٹی آئی اے کے رہنما افتخار درانی کے مطابق ملکی تاریخ کی سب سے بڑی شجرکاری بلین ٹری منصوبہ صرف 13 ارب روپے میں مکمل کرلیا گیا ہے۔

منصوبے کی ورلڈ اکنامک فورم، ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف)، بون چیلنج اور آئی یو سی این سمیت کئی بین الاقوامی اداروں نے متعدد بار تعریف و تحسین کی ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے بھی گذشتہ سال نومبر میں ہونے والی کوپ 26 کانفرنس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑی مقدار خارج کرنے والے ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ زیادہ جرأت مندانہ کلائمیٹ ایکشن پلان مرتب کریں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More