Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

فرق تو پڑتا ہے

حکمرانی میں خود احتسابی شرط اول ہے

 

                                                           

                                               تحریر: شاکراللہ، بیجنگ

 

کیا اچھا ہو اگر سیاست میں اصولوں کو اہمیت دی جائے اور اصولو ں ہی کو سیاست میں رہنما جانتے ہوئے  سیاسی عمل کو ممکنہ حد تک شفاف بنایاجائے ۔ مثالی نمونہ کہیں بھی ممکن نہیں ہوتا لیکن کوشش تو کی جاسکتی ہے اور کوشش ہوتی نظر بھی  آنی چاہیے ۔اگرایک قائد یا رہنما اصولوں کی بات کریں اور ان کا عمل بھی ان کے قول کے مطابق ہو تو فرق بھی پڑتاہے اور اثر بھی  ہوتا ہے۔ آج دنیا میں انہی لوگوں اور  قائدین کا نام احترام سے لیا جاتاہے جو اصولوں اور  نظریات پر قائم ر ہے  چاہیں ان کیلئے ان کو  کتنی  ہی  بڑی قربانی کیوں نہ دینا  پڑی۔ سیاست کو یہاں ٹپ آف دی آئس برگ  لیاگیاہے ۔ معاشرے کے ہرطبقے پر اس  کا اطلاق ہوتاہے ۔

ہم مادی دنیا میں اتنے گم ہوچکے ہیں کہ اس کے علاوہ کچھ نظر ہی  نہیں آتا ہمارے تگ ودو  اور سرگرمیوں کا مرکز بس مادی فوائد  کا حصول بن چکا ہے ۔ حالانکہ انسان تو خیالات تصورات اور احساسات کا ایک جہاں اپنے اندر رکھتا ہے  ۔انسان کے اندر کی دنیا تو غیر مادی ہے جس کی تسکین اصول و نظریات اور اخلاقیات کے آفاقی پیمانوں کے اعلی معیار پر ہے ۔اندر کی دنیا غیر متوازن ہوگی تو باہر  کی دنیا کیسے متوازن ہوسکتی ہے۔ اس توازن کی ضرورت انفرادی سطح پر بھی ہے اور اجتماعی سطح پر بھی ۔

دنیا میں وہی افراد اور قومیں آگے بڑھتی ہیں  جو ترقی کے  آفاقی معیارات پر پورا اترتی ہیں اور یہ پیمانہ علم وہنر اور اخلاقی برتری ہے ۔

آج کی  دنیا میں آگے بڑھتی قومیں  اور ان کی قیادت علم وہنر اور اخلاقی اقدار کے حامل ہونے کی وجہ سے آگے ہیں۔ شروع میں بتاچکاہوں کہ انسان کامل نہیں ہوسکتا لیکن ان  تین معیارات کے مطابق جو  جتنا  آگے ہوگا اتنا کامیاب۔

چین کا شمار اس وقت دنیا کے نقشے پر ایک کامیاب ملک کے طور پر ہوتاہے ۔ چین کی  ترقی میں یہاں کی قیادت کا نمایاں اور کلیدی کردار رہاہے ۔ چینی قیادت نے  مختلف        مشکل مواقع  پر تدبر  کا مظاہرہ  کرتے ہوئے قوم کی صحیح سمت میں رہنمائی کی ہے ۔

چینی صدر شی جن پھنگ کی قیادت میں چین نے  مثالی ترقی کی ہے ۔ چین کی ترقی اور کامیابی میں شی جن پھنگ کے نظریات  اور رہنما اصولوں نے بنیادی کردار اد اکیاہے اوران اصولوں کاتعلق اجتماعی امور سے  لے کر انفرادی کرادر اور معاملات تک ہے ۔ شی جن پھنگ نے پارٹی کے  ارکان اور عہدیداروں پر ہمیشہ اصولوں کی پاسداری اور اعلی اخلاقیات کا مظاہرہ کرنے پر زور دیاہے ۔ چند مثالیں آپ کے سامنے پیش کررہاہوں۔

شی جن پھنگ نے لاتعداد مواقع پر  چینی کمیونسٹ  پارٹیکےارکان اور سرکاری اہلکاروں پر بدعنوانی کے جڑ سے خاتمے اور صاف ستھراماحول تشکیل دینے کی خاطر خود      احتسابی پر زور دیاہے ۔ان کے خیال میں کسی بھی مسئلے سے نمٹنے کی کلید مسئلے کے ادراک  اور اس کا مقابلہ کرنے کی ہمت میں  ہے۔ اسلئے  اپنی ذات کی کوتاہیوں کو جانچنا اور دریافت کرنا ضروری ہے "ایک اعلی ظرف انسان  ہمیشہ اپنا جائزہ لیتا رہتا ہے ، کیونکہ  کمی کوتاہی  کا  احتمال  ہمیشہ رہتا ہے” ۔اسی رویے سے ہی  کمیوں اور خامیوں پر قابو پایاجاسکتاہے۔

"حکمرانی میں خود احتسابی شرط اول ہے ۔”،چین کے مشرقی ہان دور کے مفکر شون یوئے کے اس قول کا حوالہبائیس جنوری دو ہزار تیرہ کو چینی رہنما شی جن پھنگ نے چینی کمیونسٹ پارٹی کے ایک  اجلاس میں دیا۔انہوں نے اپنے خطاب میں نشاندہی کی کہ مختلف سطح کے رہنماؤں کو  ضابطہ حکمرانی میں دوسروں کے احتساب سے قبل خود احتسابی  کرنی چاہیئے اور وعدوں کو پورا کرناچاہیئے۔

قدیم چینی فلاسفر مینشیوس کا قول ہے کہ : جو لوگوں کی حمایت  حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں وہ دنیا جیت جاتے ہیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی طاقت کے مستقبل اور کامیابی کا دارومدار بالآخر عوامی حمایت پر ہے۔ شی جن پھنگ کی طرز حکمرانی کا مرکزی نقطہ عوام کو اولیں اہمیت دینا ہے۔

حال ہی میں نیشنل اکیڈمی آف گورننس میں نوجوان اور درمیانی عمر کے عہدیداروں کے لئے تربیتی پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں صدر مملکت شی جن پھنگ نےکہا کہ دنیا میں رونما ہونے والی ایک صدی کی بڑی تبدیلی کے تناظر میں چین قومی نشاتہ الثانیہ  کے نازک دور  سے گزر رہا ہے۔ چین نے ایک جامع خوشحال معاشرے کی تعمیر میں تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور غربت کے خلاف جنگ میں مکمل فتح حاصل کی ہے،تاہم بہت ساری مشکلات اور چیلنجز  اب بھی درپیش ہیں،اسلئے عہدیداران عوام کو اولین ترجیح دیں کیونکہ عوام ہی طاقت کا سرچشمہ ہیں۔انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انہیں چینی عوام کی خوشحالی اور چینی قوم کی نشاتہ الثانیہ کے ہدف پر قائم رہتے ہوئے”عوام کی بھرپور خدمت ” کا اصول اپنانا چاہیے۔

کیا ہماری گفتگو اور ہمارے اجتماعی بیانیوں اور مباحثوں میں اس طرح کے تذکرے ہوتے ہیں۔ آج کل زمانہ  سافٹ وئیر کا ہے لہذا  ہارڈ ویئر سے زیادہ سافٹ وئیر کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ سافٹ وئیر کو جب تک وائرس سے پاک نہیں کیا جائے گا  نہ  تو  ہارڈ وئیر ٹھیک ہوگا اور نہ ہی  فرق پڑے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More