Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

دنیا بھر سے چینی ویکسینوں کی تحسین

پاکستان واحد ملک نہیں ہے جس کو چین ویکسین فراہم کررہاہے

 

                                                           

                                                         تحریر: شاکراللہ

 

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ  نے پیر کو جاری ایک بیان میں بتایا کہ پیپلز لبریشن آرمی اورعوامی جمہوریہ چین نے پاکستان کی مسلح افواج کے لیے کووڈ- 19 ویکسین کا عطیہ دیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ چین نے کسی غیرملکی فوج کو کرونا  ویکسین فراہم کی۔ بیان میں چینی فوج کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔اس سے قبل چین پاکستان کو پانچ لاکھ ویکسین کی خوراکیں فراہم کر چکا ہے، جو اس وقت ملک بھر میں طبی عملے کو لگائی جا رہی ہیں۔

پاکستان واحد ملک نہیں ہے جس کو  چین ویکسین فراہم کررہاہے۔  ترقی پزیر اور پسماندہ ممالک کی ایک بڑی تعداد ہے جس کو چین ویکسین فراہم کررہاہےاور ویکسین کی منصفانہ تقسیم اور فراہمی کے اپنے وعدے کو پورا  کررہاہے ۔ چینی صدر ابتدا سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ویکسین کی تقسیم میں غریب اور امیر ممالک کے درمیان تمیز نہ برتی جائے اور  بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے تصور کے تحت سب کو ویکسین کی   دستیابی یقینی بنائی جائے ۔ چینی وزارت خارجہ کے ایک حالیہ بیان کے مطابق  چین پاکستان سمیت 53 ترقی پزیر ممالک کو ویکسین کی امداد فراہم کررہا ہے ۔ دنیا بھر  سے لوگ  چین کے اس اقدام کو سراہ رہے  ہیں اور فرنٹ لائن ورکرز سے لے کر سربراہان مملکت تک ، چینی ویکسین کی تعریف اور خیرمقدم کر رہے ہیں۔ پیرو کے صدر فرانسسکو سگاسٹی نے چین  سے سائنو فارم کی تین لاکھ ویکسینوں کی کھیپ کی آمد پر شکریہ  ادا کرتے ہوئے چین کی تعریف کی ۔ اسی طرح ، چلی کے صدر سیبسٹین پیینیرا نے 28 جنوری کو چین کا شکریہ ادا کیا ، اور کمبوڈین وزیر اعظم سمدیک ٹیکو ہن سین نے اتوار کے دن چین کے عطیہ کردہ ویکسین پر اظہار تشکر کیا۔ آٹھ فروری کو  لاؤس کے دارالحکومت ، وینٹیئین میں چینی عطیہ شدہ سینوفارم ویکسین وصول کرنے پر لاؤس کے وزیر صحت بؤنکونگ سیہونگ نے کہا ، "چینی ویکسین محفوظ اور قابل اعتماد ثابت ہوئی ہیں۔اسی طرح چین  نے عالمی ادارہ صحت کے پروگرام کوویکس کو ویکسین کی دس ملین خوراکیں عطیہ کرنےکا اعلان کیا ہے۔ اب تک چین کے علاوہ ایشیا ، افریقہ ، لاطینی امریکہ اور یورپ کے درجنوں ممالک میں لاکھوں افراد کو چینی ویکسین کی خوراکیں دی گئیں ہیں۔یہ ویکسین موثر ثابت ہوئی ہیں  اوران کا کوئی سنگین ردعمل یا سائیڈ ایفیکٹ سامنے نہیں آیا ہے۔ متعدد  ممالک کے رہنماؤں کی بڑی تعداد نے  رضاکارانہ طورپر چینی ویکسین لگوایاہے۔

چین کی سائنو فارم ویکسین کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ کوویڈ- 19 کے خلاف دنیا کی پہلی غیر فعال ویکسین ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس ویکسین کی تیاری اس وقت موجود دوسری ویکسین  کی نسبت کافی آسان ہے ۔ متحدہ عرب امارات ان ممالک میں سے ایک ہے جو اس ویکسین کا استعما ل کررہا ہے ۔ متحدہ عرب امارات کے اعلی اہلکار کے مطابق ویکسین کے بارے میں کوئی شدید منفی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے ، مریضوں نے معمولی ضمنی اثرات بھی دکھائے ہیں جو ایک  اچھی علامت ہے کہ  مدافعتی نظام صحیح طور پر رد عمل ظاہر کررہا ہے۔ سائنو فارم کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس کو عام ریفریجیشن پر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جاسکتاہے جس کی وجہ سے اس کی نقل وحمل کم ترقی یافتہ ممالک میں آسان ہے۔ برازیل میں ابھی تک تین اعشاریہ پانچ ملین افراد کو چینی ویکسین کی خوراک دی گئی ہے اور اب تک اس کے اچھے نتائج نکلے ہیں ۔

ان حقائق سے یہ اندازا لگانا مشکل نہیں کہ چین کی تیار کردہ ویکسین نہ صرف موثر اور محفوظ ثابت ہورہی ہیں بلکہ ان کی تیاری اور نقل و حمل بھی آسان ہے۔ دنیا بھر سے  چینی ویکسین کی بڑے پیمانے پر پزیرائی انسداد وبا کیلئے  چین کی عالمگیر جدوجہد اور ویکسین کی منصفانہ تقسیم اور دستیابی کیلئے چین کی مخلصانہ کوششوں کا اعتراف ہے۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More