Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

ہمارا ہدف عمران خان نہیں بلکہ اس کو کو لانے والوں کے خلاف ہے۔ نواز شریف

ہماری اولین ترجیح سلیکٹڈ حکومت اوراس سے کئی زیادہ اہم اس نظام سے نجات حاصل کرناہے

اسلام آباد (نیوز پلس) سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کا کہنا تھا کہ نہ عمران خان ہمارا ہدف ہے اور نہ ہی ہمارا مقابلہ عمران خان سے ہے الیکشن سے پہلے بھی کہا اور آج بھی کہہ رہا ہوں کہ ہماری جدو جہد عمران خان کو لانے والوں کے خلاف ہے اوران کے خلاف ہے جنہوں نے ملک کو برباد کردیا ہے۔

آل پارٹیز کانفرس سے اپنے ورچوائل خطاب میں میاں نوازشریف نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح سلیکٹڈ حکومت اوراس سے کئی زیادہ اہم اس نظام سے نجات حاصل کرناہے جس کا میں نے ذکر کیاہے ، ، یہ ملک ہمیں تمام چیزوں سے زیادہ عزیز ہے ، جس میں اچھی شہرت کے حامل جج صاحبان کو بھی نشانہ بنالیا گیاہے ، یہ نااہل اور ظالمانہ نظام ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دے گا ، ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے دشمنوں کے عزائم کیا ہیں انہیں ناکام بنانے کیلئے معیشت کے ساتھ مضبوط دفاعی نظام کی بھی ضررورت ہے ، ہم نے پہلے بھی اس ملک کو ایٹمی قوت بنایا ہے ، ہماری قومی سلامتی کیلئے ضروری ہے کہ معیشت کے ساتھ مسلح افواج کو بھی مضبوط سے مضبوط بنائیں ، اس کام میں ماضی میں کوئی کثر نہیں چھوڑی اور آئندہ بھی ہماری یہ ترجیح رہی گی ، قومی سلامتی کیلئے سب سے اہم یہ ہے کہ ہماری مسلح افوا ج آئین پاکستان ،دستوری حلف اور قائد اعظم کی تلقین کے مطابق خود کو سیاست سے دور رکھیں اور عوام کے حق حکمرانی میں مداخلت نہ کریں ۔

سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ وطن عزیز کن حالات سے گزر رہا

ہے، عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ پاکستان کو درپیش تمام مسائل کی بنیادی وجہ صرف ایک ہے کہ جمہوری نظام سے مسلسل محروم رکھا گیا ہے، جمہوری نظام میں عوام کی روح ہوتی ہے۔ انتخابات ہائی جیک کرکے اقتدار چند افراد کو منتقل کر دینا بڑی بدیانتی اور آئین شکنی ہے، انتخابی نتائج تبدیل نہ کیے جاتے تو بیساکھیوں پر کھڑی حکومت کبھی عمل میں نہیں آسکتی تھی۔

نوازشریف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی سوچ سےمتفق ہوں، ہمیں رسمی اور روایتی طریقوں سے ہٹ کراس کانفرنس کو بامقصد بنانا ہو گا۔ ایک مرتبہ سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے کہا تھا یہاں ریاست میں ریاست قائم ہے، یہاں یا تو مارشل لاء ہوتا ہے یا منتخب حکومت سے کہیں زیادہ طاقتورایک متوازی حکومت قائم ہو جاتی ہے، عوام کی حمایت سے کوئی جمہوری حکومت بن جائے تو کس طرح اسکے ہاتھ پاؤں باندھ دیے جاتے ہیں۔ کسی بھی منتخب وزیراعظم کو اوسطاً دوسال سے زائد شاید ہی موقع ملاہو۔ جولوگ بھی دھاندلی کےذمہ دار ہیں انہیں حساب دینا ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن سیاسی انتقام کا نشانہ بن رہی ہے، جو نیب سے بچ جائے وہ ایف آئی اے کے ہتھےچڑھ جاتا ہے،

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More