Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

چین کا شہر شن جن : صرف چالیس سال میں ماہی گیر گاؤں سے جدت طرازی کے عالمی مرکز تک

شینزین کو "چین کے سلیکن ویلی" کے علاوہ ، دنیا کے سب سے بڑے دس مالیاتی مراکز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے

 

شاکراللہ مہمند

مستحکم معاشی نمو ، صنعت کاری اور شہرکاری کے  حصول میں جہاں مغرب  کوسو سال لگےوہاں  چین نے یہ اہداف صرف چند دہائیوں میں حاصل کرلیےاور اس کی کامیاب مثال شن جن سے بڑھ کر کوئی نہیں۔

عوامی جمہویہ چین کے جنوب مشرقی صوبے گوانگ ڈانگ کے جنوب  میں واقع  ساحلی شہر، شینزین،۱۹۷۹میں  ایک پسماندہ  ماہی گیری گاوں تھا جس میں رہنے والے  بیس ہزارافراد بمشکل دو وقت کی روٹی کماتے تھے ۔ شینزن جدت اور ترقی کے  ماڈل  ہانگ کانگ کے پہلو میں واقع تھا ۔ تاہم نصف دہائی سے بھی کم عرصے میں ، شینزین کے ایک ضلع ، نانشان کی فی  کس جی ڈی پی ۴۹۰۰۰ ہزار امریکی ڈالر تک پہنچ گی ہے جو چین کے کسی بھی ضلع کی سب سے زیادہ ہے۔ جی ڈی پی کے لحاظ سے شینزن نے ہانگ کانگ کوبھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔

آج ، شینزین کی شہری آبادی 14 ملین کے لگ بھگ ہے اور اس کی جی ڈی پی 390 بلین ڈالر ہے۔اس لحاظ سے  شینزین اگر ایک ملک ہوتا تو دنیا کی پہلی 30 معیشتوں میں شامل ہوتا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ شینزین میں فی کس جی ڈی پی ، ۳۰۰۰۰ہزار امریکی ڈالرسے تجاوز کرچکی ہے جی ڈی پی کے لحاظ سے شینزن شنگھائی اور بیجنگ کے بعد تیسرے نمبر پر ہےاورجمہوریہ کوریا اور اسپین کے برابر ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ معاشی معجزہ  کیسے رونما ہوا؟ دراصل  شینزین کی تبدیلی کی کلید ڈینگ ژاؤپنگ کی اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی اورخاص طور پر ، خصوصی اقتصادی زونز کا قیام ہے۔

شینزن، خصوصی اقتصادی زون کے قیام کا چین کا پہلا بڑا تجربہ تھا جس میں غیر ملکی سرکایہ کاری کے لیے خصوصی ٹیکس مراعات پیش کی گئیں اور کمپنیوں نے بین الاقوامی تجارت میں مرکزی حکومت سے زیادہ آزادی حاصل کی۔ بازار کی مانگ اوردوسرے عوامل کو دیکھتے ہوئے  ، شہر میں زیادہ تر برآمدی مصنوعات تیار کی جانے لگیں۔

شینزن نے اصلاحات کے تحت ، جدید ٹیکنالوجی ، مالی اعانت ، موثر لاجسٹکس ، اور کاروباری ماحول کی بہتری پر توجہ دی ۔ آج شینزن دنیا کی جدید ترین انفارمیشن اینڈ مواصلاتی ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کی میزبانی کررہا ہے ، جن میں ہواوے ، ٹینسنٹ ، زیڈ ٹی ای اور ڈرون بنانے والی کمپنی ڈی جے آئی شامل ہیں۔

شینزین کو "چین کے سلیکن ویلی” کے علاوہ ، دنیا کے سب سے بڑے دس مالیاتی مراکز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے جہاں پر بڑے بڑے مالیاتی ادارے قائم ہیں ۔

رسد اور نقل و حمل میں ، اس کی کورئیر کمپنیاں، ایس ایف ایکسپریس اور شپنگ کمپنیاں ،سی آئی ایم سی بڑی بڑی کمپنیاں ہیں۔ یہاں کی  بندرگاہیں اور ریلوے نیٹ ورک دنیا کی سب سے مصروف ترین جگہیں ہیں ، جبکہ رئیل اسٹیٹ اس کی معیشت کا دسواں حصہ ہے۔ آج اگر گوانگ ڈونگ صوبہ عالمی سطح پر جدت طرازی میں ٹرینڈ سیٹرہے تو ، شینزین اس کی ٹیکنالوجی کی ترقی کا مرکز ہے۔ یہ تو صرف ایک مثال ہے ۔اگر کسی نے ترقی کے ماڈل دیکھنے ہیں تو چین آئیں یہاں ترقی کی سینکڑوں نہیں  ہزاروں مثالیں ملیں گی۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More