یورپ قیامت خیز گرمی کی لپیٹ میں، اسپین اور فرانس میں جون کے مہینے میں 2 ہزار سے زائد اموات ریکارڈ
یورپ میں جاری شدید گرمی کی لہر نے انسانی جانوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اسپین میں صرف جون کے مہینے کے دوران شدید گرمی کے باعث 1,028 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ فرانس میں بھی گرمی کی شدت کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد افراد کے انتقال کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ماہرین موسمیات اور متعلقہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اسپین، جرمنی، اٹلی، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ میں آئندہ ہفتے ایک اور طاقتور ہیٹ ویو آنے کا امکان ہے، جس کے باعث درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب پرتگال نے شدید گرمی کے پیش نظر ملک کے مختلف علاقوں میں ریڈ الرٹ نافذ کر دیا ہے اور شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ادھر امریکا میں بھی خطرناک حد تک بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث متعلقہ اداروں نے شدید گرمی کی وارننگ جاری کر دی ہے اور عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق موجودہ شدید گرمی کی لہر مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کے ممکنہ اثرات کی ایک واضح جھلک ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں پر مؤثر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے برسوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے انسانی صحت، ماحول اور معیشت کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔
ڈبلیو ایچ او نے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی، صحت عامہ کے نظام اور حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اس سلسلے میں عالمی ادارۂ صحت نے 6 جولائی کو یورپ میں شدید گرمی، موسمیاتی تبدیلی اور اس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات پر غور کرنے کے مقصد سے ایک اہم اجلاس بھی طلب کر لیا ہے، جس میں ماہرین اور متعلقہ حکام آئندہ لائحۂ عمل پر تبادلہ خیال کریں گے۔