کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا رہے گا ، حرمین شریفین کی حرمت پر آنچ نہیں آنے دیں گے، شہباز شریف
اقوام متحدہ کے منشور کے ساتھ کھڑے ہیں، پاکستان جنگ نہیں امن چاہتا ہے: وزیراعظم پاکستان
مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، خطے میں امن و استحکام کے لیے ہے، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا اتحاد دفاعی نوعیت کا ہے، بھارت نے جارحیت کی، پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق دفاع کا حق استعمال کیا: وزیراعظم
نیویارک: (نیوز پلس) وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ حرمین شریفین پاکستان کی ریڈ لائن ہے اور مقدس مقامات کی حرمت و سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے ہے۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی واضح کر چکے ہیں کہ مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، کسی ملک کے خلاف نہیں اور اس کا مقصد بیرونی جارحیت کے مقابلے میں اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی کا ذریعہ نہیں بلکہ امن کے لیے اجتماعی عزم کا اظہار ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں اور ان کا باہمی دفاعی تعاون کسی ریاست کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے چوتھی مرتبہ خطاب کر رہے ہیں اور پاکستان اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن قوم ہے اور وہ عالمی سطح پر تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے۔
وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جاری جنگ نے نہ صرف لاکھوں لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے شدید دباؤ میں آگئے ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اپنا کردار ادا کیا اور اسلام آباد نے ہمیشہ جنگ کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کو مسئلے کا حل قرار دیا ہے۔ پاکستان نے دونوں فریقوں کے درمیان رابطے اور مفاہمت کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن چاہتا ہے اور دنیا کو تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو بات چیت اور سفارتی ذرائع کو موقع دینا ہوگا۔
حرمین شریفین کی سلامتی کے حوالے سے وزیراعظم نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ مقدس مقامات کی حرمت مسلمانوں کے جذبات سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان نے حالیہ دنوں میں مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون حملے کی کوشش سمیت سعودی عرب کے خلاف حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نے اس سے قبل بھی کہا تھا کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور حرمت ہر پاکستانی کے دل کے قریب ہے اور پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا برادر ملک ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات مذہب، تاریخ، باہمی اعتماد اور عوامی روابط پر قائم ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف حملوں کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے خطے میں مزید کشیدگی سے گریز اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کیے تھے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد تینوں ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عوام کے تحفظ کے لیے اجتماعی دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے میں یہ اصول بھی شامل ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق سے ہم آہنگ ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے دفاع کے ساتھ ساتھ امن اور مذاکرات کے راستے کو ترجیح دی ہے۔
شہباز شریف نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سفارتی ذرائع کو مضبوط بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا اس وقت متعدد بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے اور عالمی برادری کو جنگوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
وزیراعظم نے مسئلہ فلسطین کا بھی ذکر کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات میں بھی وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت، علاقائی امن اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل پر پاکستان کے مؤقف کو دہرایا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان عالمی امن، کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خود دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قربانیاں دی ہیں اور دنیا میں امن و سلامتی کے لیے اس کا کردار جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد امن، خودمختاری، علاقائی استحکام اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہے۔ موجودہ عالمی اور علاقائی بحرانوں کے تناظر میں پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خطے میں امن صرف طاقت کے استعمال سے قائم نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کے لیے سیاسی عزم، باہمی اعتماد اور مسلسل سفارتی رابطوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے اور دیرپا امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔