چینی صدر کی کرپشن مہم اب اپنے سب سے قریبی حلقے تک پہنچ گئی
بیجنگ: چین کے صدر ژی جن پنگ نے اپنی وسیع پیمانے پر جاری کرپشن کے خلاف مہم کو مزید تیز کرتے ہوئے فوج کے ایک اعلیٰ عہدے دار، جو ان کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے، کے خلاف کارروائی کی ہے۔ اس اقدام نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اب کسی بھی اعلیٰ عہدے دار کی جانچ سے کوئی محفوظ نہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کے ایک اعلیٰ رینک کے افسر کو "سختی کے ساتھ پارٹی کے قوانین اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی” کے الزامات میں تحقیقات کے لیے لایا گیا ہے۔ چین میں یہ اصطلاح عام طور پر کرپشن، اختیارات کے غلط استعمال یا سیاسی عدم وفاداری کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
یہ خبر اس لیے بھی قابل ذکر ہے کیونکہ اس افسر کو طویل عرصے سے ژی جن پنگ کا قابل اعتماد ساتھی سمجھا جاتا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ژی جن پنگ کی بڑھتی ہوئی طاقت اور سخت نظم و ضبط کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں وفاداری ہی کسی کے تحفظ کی ضمانت نہیں۔
کرپشن کے خلاف مہم کی شدت
صدر ژی جن پنگ کے دور اقتدار میں کرپشن کے خاتمے کو قیادت کا اہم ستون بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کمیونسٹ پارٹی کی بقاء اور ملک کی استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران سینکڑوں اعلیٰ عہدے دار، صوبائی رہنماؤں سے لے کر فوجی کمانڈروں تک، برخاست یا جیل بھجوا دیے گئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ تحقیقات صدر کے اپنے قریبی حلقے تک پہنچ چکی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہم اب اپنے سب سے اعلیٰ حلقے تک وسعت اختیار کر چکی ہے۔
"یہ ظاہر کرتا ہے کہ ژی اپنے قریبی ساتھیوں کو بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ نظم و ضبط کو مضبوط کیا جا سکے اور اپنی طاقت کو مستحکم بنایا جا سکے۔” ایک چینی امور کے ماہر نے کہا۔ "پیغام واضح ہے: ذاتی تعلقات اب کوئی تحفظ نہیں فراہم کرتے۔”
فوج پر اثرات
یہ تحقیقات چین کی فوجی قیادت میں جاری ہلچل کے دوران سامنے آئی ہیں۔ حالیہ برسوں میں PLA کی مختلف شاخوں میں کمانڈرز کی تبدیلیاں کی گئی ہیں، خاص طور پر ان یونٹس میں جو ہتھیاروں کی خریداری اور اسٹریٹجک صلاحیتوں کے ذمہ دار ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائی عارضی طور پر فوجی فیصلوں میں خلل ڈال سکتی ہے، مگر اس سے ژی جن پنگ کا فوج پر براہِ راست کنٹرول مزید مضبوط ہوگا، جو وہ بار بار قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔
ملکی اور بین الاقوامی پیغام
ملکی سطح پر یہ اقدام ژی کو ایک سخت گیر اور نظم و ضبط پر کاربند رہنما کے طور پر پیش کرتا ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر یہ واضح کرتا ہے کہ چین میں طاقت مکمل طور پر مرکزیت اختیار کر چکی ہے، اور اچانک تحقیقات سے اقتدار کا توازن فوری طور پر بدل سکتا ہے۔
سرکاری میڈیا نے الزامات کی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں، مگر پیغام صاف ہے: ژی جن پنگ کی قیادت میں، عہدہ، رینک اور ذاتی تعلقات بھی تحفظ کی ضمانت نہیں۔
آئندہ سیاسی مواقع کے دوران یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ ژی ملکی قیادت کا ڈھانچہ اپنی مکمل وفاداری اور کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے تبدیل کرنے پر مصر ہیں، چاہے اس کے لیے پہلے ناقابلِ دسترس سمجھے جانے والے افراد کو بھی نشانہ بنایا جائے۔