پنجاب میں کرپشن کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 54 افسران و اہلکار معطل یا برطرف

پنجاب میں کرپشن کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 54 افسران و اہلکار معطل یا برطرف

کرپشن معاشرے کا ناسور بن چکی ہے، جس کے خاتمے کے لیے حکومت پنجاب کا کریک ڈاؤن بلا تفریق جاری رہے گا۔ عظمیٰ بخاری

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ عوام کرپشن کے خاتمے کی حکومتی مہم میں وزیراعلیٰ مریم نواز کے ساتھ ہیں اور صوبے میں جاری کارروائیوں کو عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔

لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کرتے ہوئے تمام سرکاری محکموں سے بدعنوانی کے خاتمے کو اپنا مشن بنا لیا ہے، جس کے تحت بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔

عظمیٰ بخاری کے مطابق پنجاب میں کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران اب تک 54 افسران اور اہلکاروں کو معطل یا ملازمت سے برطرف کیا جا چکا ہے۔ صرف محکمہ خوراک میں 48 افسران و اہلکار گرفتار کیے گئے، جبکہ 6 ملازمین کو ملازمت سے برخاست اور 14 فوڈ کنٹرولرز کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کی گئی ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور کی پارکنگ میں شہریوں سے مقررہ فیس سے زائد وصولی پر ٹھیکیدار کو گرفتار کرلیا گیا، جبکہ چیچہ وطنی ٹی ایچ کیو ہسپتال میں اوور چارجنگ کا ٹھیکہ منسوخ کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن معاشرے کا ناسور بن چکی ہے، جس کے خاتمے کے لیے حکومت پنجاب کا کریک ڈاؤن بلا تفریق جاری رہے گا۔ کسی فرد یا گروہ کو سیاسی بنیادوں پر نشانہ نہیں بنایا جائے گا بلکہ بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ عوام کرپشن کے خاتمے کی حکومتی مہم میں وزیراعلیٰ مریم نواز کے ساتھ ہیں اور صوبے میں جاری کارروائیوں کو عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے جو بھی فیصلہ کیا، اس پر عمل درآمد یقینی بنایا، جبکہ تنقید اور منفی پروپیگنڈے کو کبھی اپنے راستے کی رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ ان کے بقول جھوٹے پروپیگنڈے اور ذاتی تنقید نے مریم نواز کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کیا ہے۔

پنجاب - کرپشنکرپشنوزیر اطلاعات- پنجاب - عظمیٰ بخاری
Comments (0)
Add Comment