پاکستان ، ترکیہ کا موسمیاتی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، الیکٹرک گاڑیوں اور گرین منصوبوں پر مشترکہ اقدامات ہوں گے
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی ترکیہ کی نائب وزیر برائے ماحولیات، شہری آبادکاری و موسمیاتی تبدیلی سے ملاقات
اسلام آباد وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے آذربائیجان کے شہر شاماخی میں آئندہ اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس (COP31) کے سلسلے میں منعقدہ ہیڈز آف ڈیلیگیشنز ریٹریٹ کے موقع پر ترکیہ کی نائب وزیر برائے ماحولیات، شہری آبادکاری و موسمیاتی تبدیلی اور COP31 کی نامزد صدر محترمہ فاطمہ ورنک سے اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ملاقات کے دوران آئندہ COP31 کانفرنس کے مشترکہ وژن، ترجیحات اور دوطرفہ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ COP31 سے قبل متعدد مشترکہ پروگرامز کا آغاز کیا جائے گا، جن میں بالخصوص الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے فروغ، بجلی کے استعمال میں اضافہ، توانائی کی کارکردگی بہتر بنانے اور ری سائیکلنگ کی صنعت کو مستحکم کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
اس موقع پر ڈاکٹر مصدق ملک نے ترک وفد کو وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے دو اہم منصوبوں "گرین فیلڈ” اور "گرین یونیورسٹی” کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ "گرین فیلڈ” پروگرام کا مقصد ماحول دوست اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی کرنا اور نوجوان کاروباری افراد کو موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید، پائیدار اور قابلِ عمل حل تیار کرنے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ "گرین یونیورسٹی” منصوبے کے تحت ایک عالمی پلیٹ فارم قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جہاں تحقیق، طلبہ اور فیکلٹی کے تبادلوں کو فروغ دیا جائے گا تاکہ جدید تحقیق، اختراعات اور تجارتی بنیادوں پر قابلِ عمل موسمیاتی حل سامنے لائے جا سکیں۔
دونوں وفود نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ COP31 کے موقع پر ان منصوبوں سے متعلق اہم اعلانات کیے جائیں گے، جبکہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ماحول دوست ٹیکنالوجی، پائیدار ترقی اور موسمیاتی اقدامات کے شعبوں میں مزید قریبی تعاون کے امکانات کو عملی شکل دی جائے گی۔
ملاقات کے دوران ڈاکٹر مصدق ملک نے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے ترکیہ کے صدر اور خاتونِ اول کے لیے نیک تمناؤں اور خیرسگالی کے پیغامات بھی پہنچائے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی کوششوں میں ترکیہ کی خاتونِ اول کی فعال دلچسپی، قیادت اور کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عالمی سطح پر ماحولیات کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک اور محترمہ فاطمہ ورنک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ترکیہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے عملی، جدید اور قابلِ توسیع منصوبوں پر مل کر کام کریں گے تاکہ پائیدار ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے مشترکہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔