پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بھارت کا ردِعمل سامنے آگیا
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے متعلق پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے ۔ رندھیر جیسوال
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر بھارت کا ردِعمل سامنے آگیا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ تینوں ممالک کے درمیان ہونے والی دفاعی پیش رفت کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے متعلق پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت اس پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہی ہے اور صورتحال کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کیا جاتا رہے گا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ اہم معاہدہ مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں منعقدہ مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس کے دوران طے پایا۔ اجلاس میں سعودی عرب کی جانب سے ولی عہد محمد بن سلمان، پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور ترکیہ کی جانب سے صدر رجب طیب اردوان نے شرکت کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس کے دوران پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جسے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ قرار دیا گیا ہے۔
معاہدے پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف مسلح جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا، جس سے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی راہ ہموار ہوگی۔