ٹرمپ کا ایران پر دوبارہ حملے کا اشارہ، مڈٹرم انتخابات کے بعد کارروائی کا امکان
امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ، ایران کی سفارتی پیشکش بھی مسترد کردی گئی
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سات روز میں کھولنے کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی موجودہ تجویز امریکا کے لیے قابل قبول نہیں، جبکہ امریکی حکام کے مطابق نومبر کے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان زیر غور ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز فوری طور پر کھولنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم امریکا ایرانی پیشکش سے اتفاق نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر پہلے ہی مکمل کنٹرول حاصل ہے اور ان کے مطابق اہم آبی گزرگاہ سے تیل کی بڑی مقدار بدستور گزر رہی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور امریکا بھی معاہدے کا خواہاں ہے، تاہم تہران کی جانب سے پیش کی جانے والی موجودہ شرائط قابل قبول نہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک میں بتایا تھا کہ تہران نے قطر کے ذریعے واشنگٹن کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے سات روزہ منصوبہ پیش کیا ہے۔ ایرانی تجویز کے مطابق بعض امریکی اقدامات کی صورت میں آبنائے ہرمز سات روز کے اندر دوبارہ کھولی جا سکتی ہے جبکہ امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات بھی بحال کیے جا سکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی منصوبے میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا، ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں میں نرمی اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جنگ بندی سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔
عباس عراقچی کے مطابق منصوبے پر عمل درآمد کے ابتدائی اقدامات میں چار سے پانچ روز لگ سکتے ہیں، چھٹے روز آبنائے ہرمز کھولی جا سکتی ہے جبکہ ساتویں روز امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کا دوبارہ آغاز ممکن ہوگا۔
تاہم امریکی صدر کی جانب سے ایرانی تجویز کو ناقابل قبول قرار دیے جانے کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے مستقبل پر نئے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کے گرد جاری کشیدگی عالمی تیل منڈی اور توانائی کی سپلائی کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
ادھر وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نومبر کے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ بمباری کے امکان کو دیکھ رہے ہیں۔ تاہم یہ بات امریکی حکام سے منسوب رپورٹ ہے اور اسے ٹرمپ کی جانب سے کسی نئے فوجی حملے کی باضابطہ تاریخ یا حتمی فیصلے کا اعلان نہیں سمجھا جا سکتا۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کا معاملہ مذاکرات اور فوجی دباؤ دونوں کا مرکزی نقطہ بن گیا ہے۔ تہران کی جانب سے محدود مدت میں آبی گزرگاہ کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کی پیشکش کے باوجود واشنگٹن کے سخت ردعمل نے سفارتی حل کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔