نیوزی لینڈ نے صدر ٹرمپ کے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت مسترد کردی
ویلنگٹن : نیوزی لینڈ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ نیوزی لینڈ کے وزیرِ اعظم کرسٹوفر لکسن نے جمعے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں اس فیصلے کی تصدیق کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے بورڈ آف پیس کا اعلان کیا تھا، جس کا ابتدائی مقصد غزہ میں نازک جنگ بندی کو مستحکم کرنا بتایا گیا، تاہم صدر ٹرمپ کے مطابق مستقبل میں یہ ادارہ دیگر عالمی امور میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس بورڈ میں شمولیت کے لیے درجنوں عالمی رہنماؤں کو مدعو کیا گیا ہے۔
اگرچہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک جن میں ترکی، مصر، سعودی عرب اور قطر شامل ہیں، کے علاوہ ابھرتی ہوئی بڑی ریاستیں جیسے انڈونیشیا اس بورڈ کا حصہ بن چکی ہیں، تاہم بڑی عالمی طاقتوں اور امریکا کے روایتی مغربی اتحادیوں نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔
وزیرِ اعظم لکسن نے ایک ای میل بیان میں کہا کہ نیوزی لینڈ نے موجودہ شکل میں بورڈ آف پیس میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر اپنے بیان میں کہا کہ کئی ریاستیں، خصوصاً متعلقہ خطے سے، غزہ سے متعلق بورڈ کے کردار میں فعال تعاون کر رہی ہیں، اور “نیوزی لینڈ اس مرحلے پر کوئی نمایاں اضافی کردار ادا نہیں کر سکے گا۔”
وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کے ایک بانی رکن اور دیرینہ حامی کی حیثیت سے نیوزی لینڈ کے لیے یہ ضروری ہے کہ بورڈ آف پیس کا کام اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق اور اس کے تکمیلی کردار کے طور پر ہو۔
انہوں نے کہا، “یہ ایک نیا ادارہ ہے، اور اس کے دائرۂ کار، موجودہ اور مستقبل کے کردار سے متعلق وضاحت ضروری ہے، جس کے بعد ہی کسی حتمی شمولیت پر غور کیا جا سکتا ہے۔”