تحریر: خاورعباس شاہ
عالمی یومِ سمندر 2026 – سمندری بحران، ماحولیاتی خطرات اور پاکستان کا مؤقف
سمندر محض پانی کا وسیع و عریض ذخیرہ نہیں بلکہ زمین پر زندگی کا بنیادی ستون، عالمی آب و ہوا کا ضامن، آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ اور کروڑوں انسانوں کے معاشی وجود کی بنیاد ہیں۔ مگر یہی سمندر آج تاریخ کے ایک نازک ترین موڑ پر کھڑے ہیں۔ عالمی یومِ سمندر 2026ء کے موقع پر دنیا بھر میں "ری امیجن: ہماری موجودہ دنیا سے آگے، سمندر کے ساتھ ایک نیا تعلق” کے عنوان کے تحت یہ حقیقت پوری شدت سے سامنے آئی ہے کہ سمندری نظام تیزی سے ایک ایسے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے جو نہ صرف ماحول بلکہ انسانی تہذیب کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
اس موقع پر پاکستان کی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری نے بھی واضح کیا ہے کہ سمندری ماحولیاتی نظام کو درپیش خطرات اب محض ماحولیاتی نہیں رہے بلکہ یہ معاشی، سماجی اور قومی سلامتی کے مسائل کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ وزارت کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، پلاسٹک آلودگی، حیاتیاتی تنوع میں تیزی سے کمی اور قدرتی وسائل کا غیر پائیدار استعمال سمندروں کو ایک ایسے دباؤ میں دھکیل رہے ہیں جہاں واپسی کا راستہ دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے ساحلی ممالک اس بحران کے براہِ راست اثرات محسوس کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے تازہ ترین اعداد و شمار اس صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔ سمندر زمین پر پیدا ہونے والی آکسیجن کا کم از کم پچاس فیصد فراہم کرتے ہیں، جبکہ فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ جذب کرتے ہیں۔ یہ نظام زمین کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم صنعتی سرگرمیوں، فوسل فیول کے بڑھتے استعمال اور غیر ذمہ دارانہ انسانی رویوں نے اس قدرتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں میں سمندری درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، جو نہ صرف سمندری حیات کو متاثر کر رہا ہے بلکہ عالمی موسمی پیٹرن کو بھی بدل رہا ہے۔ گرم پانی سمندر کی سطح کو پھیلاتا ہے جبکہ برفانی گلیشیئرز کے پگھلنے سے سمندری سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ اضافہ بظاہر چند ملی میٹر فی سال پر مشتمل ہے، مگر اس کے اثرات ساحلی شہروں، جزائر اور نشیبی علاقوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو آنے والے عشروں میں لاکھوں لوگ بے گھر ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے تیسرے ورلڈ اوشین اسسمنٹ (WOA) نے اس صورتحال کو "گہرا ہوتا ہوا عالمی بحران” قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سمندر، جو کبھی انسانی تہذیب کے لیے ایک لامحدود اور محفوظ ذریعہ سمجھا جاتا تھا، اب اپنی برداشت کی حدوں کے قریب پہنچ چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سمندری حرارت میں اضافہ، برفانی تہوں کا تیزی سے پگھلنا، آکسیجن کی کمی اور آلودگی نے سمندری نظام کو ایک خطرناک عدم توازن میں مبتلا کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل António Guterres نے اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسانیت اب سمندر کو لامحدود وسائل کا ذخیرہ نہیں سمجھ سکتی۔ ان کے مطابق سمندر کے ساتھ تعلق کو ازسرِنو تشکیل دینا ہوگا، جو سائنس، بین الاقوامی قانون اور مشترکہ عالمی ذمہ داری پر مبنی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ سمندروں کی تباہی دراصل انسانی مستقبل کی تباہی ہے، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے اثرات ناقابلِ واپسی ہوں گے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ 1950 کی دہائی کے بعد سے سمندروں میں جمع ہونے والی اضافی حرارت کا ایک بڑا حصہ حالیہ برسوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سمندری نظام میں تبدیلی کی رفتار غیر معمولی طور پر بڑھ چکی ہے۔ اس حرارت کے نتیجے میں نہ صرف سمندری برف پگھل رہی ہے بلکہ سمندری دھاروں کا نظام بھی متاثر ہو رہا ہے، جو عالمی موسموں کے توازن میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
آرکٹک خطہ اس تبدیلی کی سب سے واضح مثال بن چکا ہے، جہاں سائنسدانوں کے مطابق آنے والے سالوں میں موسمِ گرما کے دوران برف مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں نہ صرف ماحول بلکہ عالمی جغرافیائی سیاست بھی متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ نئے بحری راستے کھلنے سے بڑی طاقتوں کے درمیان اقتصادی اور اسٹریٹجک مقابلہ بڑھ رہا ہے۔ اسی طرح انٹارکٹیکا میں بھی سمندری برف تیزی سے کم ہو رہی ہے، جو عالمی سطح پر سمندری نظام کے عدم استحکام کی علامت ہے۔
سمندری حیات پر اس بحران کے اثرات انتہائی گہرے ہیں۔ کئی مچھلیوں کی انواع ٹھنڈے پانیوں کی طرف ہجرت کر رہی ہیں، مگر تمام جانداروں کے لیے یہ ممکن نہیں۔ ماہرین کے مطابق کچھ انواع کے پاس اب زندہ رہنے کے لیے کوئی موزوں جگہ باقی نہیں بچی، جس کے نتیجے میں وہ معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔
مرجانی چٹانیں اس بحران کی سب سے زیادہ متاثرہ مثال ہیں۔ یہ چٹانیں سمندری حیاتیاتی تنوع کا مرکز سمجھی جاتی ہیں، مگر بار بار آنے والی سمندری گرمی کی لہریں اور طوفان انہیں بحالی کا موقع ہی نہیں دے رہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اگر عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا گیا تو دنیا کی تقریباً نوے فیصد مرجانی چٹانیں ختم ہو سکتی ہیں، جو سمندری ماحولیاتی نظام کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔
اسی طرح پلاسٹک آلودگی بھی ایک سنگین عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔ ہر سال لاکھوں ٹن پلاسٹک فضلہ سمندروں میں شامل ہو کر اربوں مائیکرو پلاسٹک ذرات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ ذرات نہ صرف سمندری جانداروں کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ خوراکی زنجیر کے ذریعے انسانی صحت کے لیے بھی خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ اب تک 4000 سے زائد سمندری انواع میں مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی ریکارڈ کی جا چکی ہے۔
رپورٹ میں گہرے سمندروں میں معدنیات کی کان کنی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ سرگرمیاں سمندری فرش کے نازک ماحولیاتی نظام کو مستقل طور پر نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ بھاری مشینری، شور اور کیمیائی فضلہ سمندری حیات کے قدرتی رویوں اور نقل مکانی کے راستوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
ماحولیاتی تنظیم Greenpeace نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمندروں کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر فوری اور فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہیں۔ تنظیم کے مطابق حکومتوں کو پلاسٹک کی پیداوار میں کمی، سمندری تحفظ کے قوانین کے نفاذ اور سائنسی تحقیق میں سرمایہ کاری کو بڑھانا ہوگا۔
پاکستان کے حوالے سے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے کہا ہے کہ ملک کی 1050 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی، مینگرووز کے گھنے جنگلات، ماہی گیری کے وسائل اور ساحلی آبادیوں کو موسمیاتی تبدیلی اور آلودگی کے باعث شدید خطرات لاحق ہیں۔ ساحلی کٹاؤ میں اضافہ، سمندری سطح کا بلند ہونا اور شدید موسمی واقعات ان علاقوں کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں۔
وزارت نے مزید کہا کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے معاہدے (BBNJ) سمیت مختلف عالمی اقدامات میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ حکومت کا مقصد نہ صرف ساحلی ماحولیاتی نظام کا تحفظ ہے بلکہ پائیدار ترقی کے اہداف کے مطابق سمندری وسائل کا دانشمندانہ استعمال بھی ہے۔
آخر میں وزارت نے شہریوں، صنعتوں، تعلیمی اداروں، ماہی گیروں اور ساحلی برادریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پلاسٹک کے استعمال میں نمایاں کمی لائیں، صفائی مہمات میں حصہ لیں اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنائیں۔ ماہرین کے مطابق اگر آج اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں ایک ایسے سمندری نظام کی وارث ہوں گی جو اپنی بنیادی صلاحیتوں سے محروم ہو چکا ہوگا۔ سمندر کا تحفظ دراصل انسانیت کے مستقبل کا تحفظ ہے، اور یہی اس عالمی دن کا سب سے اہم پیغام ہے۔