حملہ ہوا تو خلیج میں امریکا سے منسلک پلوں اوربجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے ؛ ایرانکا ٹرمپ کے بیان پر سخت ردعمل

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکا سے منسلک پلوں اوربجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے ؛ ایرانکا ٹرمپ کے بیان پر سخت ردعمل

ایران کا ٹرمپ کی دھمکی پر سخت ردعمل، خبردار کیا امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفراسٹرکچر بھی محفوظ نہیں رہیں گے

تہران: ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ دھمکی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات اور اس سے وابستہ اہم شہری انفراسٹرکچر بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم ایرانی فوجی ذریعے نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری ناقابلِ سمجھوتہ ہے اور تہران کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔ فوجی ذریعے کے مطابق ایران اس حوالے سے اپنے مؤقف پر پوری مضبوطی سے قائم ہے اور اس کے عزم میں کسی قسم کی نرمی نہیں آئے گی۔

فوجی ذریعے نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں، بجلی گھروں یا دیگر اہم شہری تنصیبات پر حملہ کیا تو ایران بھی خطے میں امریکی مفادات اور عرب ممالک میں امریکا سے وابستہ بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گا۔ ان ممکنہ اہداف میں پل، بجلی گھر، توانائی کی تنصیبات اور دیگر اہم انفراسٹرکچر شامل ہو سکتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ چند روز کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران جہاں چاہے وہاں کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے واشنگٹن کو کسی بھی عسکری اقدام کے نتائج کا بخوبی اندازہ ہونا چاہیے۔

ایرانی فوجی ذریعے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اس نوعیت کا کوئی "خطرناک جوا” کھیلتے ہیں تو اس کا انجام پہلے کی طرح امریکا کے لیے سبکی اور ناکامی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم عالمی بحری گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی دوسرے ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا اس کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا، چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

امریکی صدر کی اس دھمکی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ کسی بھی وقت بڑے تصادم کی صورت اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی سطح پر بھی گہری تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل اور قدرتی گیس کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی عالمی توانائی کی سپلائی متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی سلامتی اور بین الاقوامی بحری نقل و حمل کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری دونوں ممالک سے تحمل اور سفارتی ذرائع سے تنازع کے حل پر زور دے رہی ہے۔

ایران - امریکا - جنگایران - صدر -مسعود پزشکیان
Comments (0)
Add Comment