بیوروکریسی کی دہری شہریت کے خاتمے کی جانب پیش رفت، حتمی فیصلہ 16 فروری کو متوقع

بیوروکریسی کی دہری شہریت کے خاتمے کی جانب پیش رفت، حتمی فیصلہ 16 فروری کو متوقع

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں بیوروکریسی کی دہری شہریت کے خاتمے سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی کابینہ کمیٹی کے ارکان نے بیوروکریسی کی دہری شہریت ختم کرنے کے حق میں ووٹ دے دیا، جبکہ ججوں کی دہری شہریت کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اس معاملے پر حتمی فیصلہ 16 تاریخ کو کیے جانے کا امکان ہے۔

اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی ابرار احمد نے کی۔ دورانِ اجلاس رکن کمیٹی نور عالم خان نے سوال اٹھایا کہ جب اراکینِ پارلیمنٹ کو دہری شہریت رکھنے کی اجازت نہیں تو بیوروکریسی کو یہ سہولت کیوں حاصل ہے۔ انہوں نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی بہن یا بیٹی بھی دہری شہریت رکھتی ہو تو وہ اس کے ساتھ بیٹھنے کو بھی تیار نہیں۔

وزیر مملکت طاہرہ اورنگزیب نے بتایا کہ ان کی بیٹی آسٹریلین نیشنل تھی، جس نے شہریت ترک کر کے پارلیمنٹ میں آنے کا فیصلہ کیا۔ اس موقع پر سیکریٹری کابینہ نے واضح کیا کہ اگر پارلیمنٹ اس ضمن میں فیصلہ کرے تو حکومت قانون سازی کے لیے تیار ہے۔

اجلاس کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے آگاہ کیا کہ اگرچہ 21 ممالک میں دہری شہریت کی اجازت ہے، تاہم اس کے باوجود بعض افراد دیگر ممالک کی شہریت بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس اہم معاملے پر 16 تاریخ کو حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

اجلاس میں غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کے معاملے پر بھی بحث ہوئی۔ رکن کمیٹی آغا رفیع اللہ نے سوال کیا کہ سمری کس نے کابینہ کے سامنے پیش کی، جس پر سیکریٹری کابینہ کامران علی افضل نے وضاحت دی کہ وزارت خارجہ کی سمری پر کابینہ نے متفقہ طور پر منظوری دی تھی۔

علاوہ ازیں وفاقی سیکریٹریز کو 90 ہزار روپے سفری الاؤنس دینے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔ نور عالم خان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ پابندیاں صرف اراکینِ پارلیمنٹ پر ہیں جبکہ افسران کو ہر سہولت حاصل ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پالیسی کے مطابق سرکاری گاڑی لینے والے افسران کو الاؤنس نہیں ملنا چاہیے، مگر عملاً دونوں سہولتیں لی جا رہی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے سیکریٹری کابینہ کو اس پالیسی پر مؤثر چیک اینڈ بیلنس کی ہدایت کی، تاہم کابینہ ڈویژن نے افسران سے عمل درآمد کی تصدیق (سرٹیفکیٹ) لینے کی شرط ختم کرنے کی حمایت نہیں کی۔ اجلاس میں اٹھائے گئے نکات کو حکومتی پالیسی اور قانون سازی کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا گیا۔

بیوروکریسی -دہری شہریتقومی اسمبلی - پاکستان
Comments (0)
Add Comment