ایران کا بڑا جنگی انتباہ، دشمن کے ہر حملے کا 20 گنا طاقت سے جواب دینے کا اعلان
تہران: ایران نے کسی بھی دشمن حملے کی صورت میں انتہائی سخت اور بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کا انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے 2 یا 3 اہداف کو نشانہ بنایا گیا تو جواب میں 20 اہداف پر حملہ کیا جائے گا۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنی طاقت، اختیار اور انتظامی صلاحیت کو عملی طور پر ثابت کردیا ہے۔
حسین محبی نے یہ بیان آبنائے ہرمز میں ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کی جانب سے ایک امریکی بغیر پائلٹ آبدوز کو قبضے میں لیے جانے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی طاقت اور نگرانی اب محض دعویٰ نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے جس کا عملی طور پر مظاہرہ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس صلاحیت کو دشمن کی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے استعمال کرے گا۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والا کوئی بھی بحری جہاز اگر ایران کی جانب سے آبنائے کے انتظام اور نگرانی کو نظر انداز کرتے ہوئے گزرنے کی کوشش کرے گا تو وہ کامیاب نہیں ہوسکے گا۔
حسین محبی نے خطے میں امریکی بحری موجودگی کے حوالے سے بھی اہم دعویٰ کیا۔ ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے قبل خلیج فارس میں تقریباً 30 سے 40 امریکی بحری جہاز اور جنگی جہاز موجود تھے، تاہم اب صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہوچکی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت خلیج فارس میں ایک بھی امریکی جنگی جہاز موجود نہیں اور امریکی بحری بیڑا آبنائے ہرمز سے کم از کم 400 کلومیٹر دور پیچھے ہٹ چکا ہے۔
IRGC ترجمان نے مزید کہا کہ ایران نے طویل فاصلے تک دشمن کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت بھی حاصل کرلی ہے اور جدید ہتھیاروں اور میزائلوں کے ذریعے دور دراز مقامات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے چند روز قبل تقریباً 500 کلومیٹر کے فاصلے سے ایک طیارہ بردار بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا۔
حسین محبی نے ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب صورتحال اس مقام تک پہنچ چکی ہے کہ اگر دشمن ایران کے 2 یا 3 اہداف کو نشانہ بناتا ہے تو ایران اس کے جواب میں 20 اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی فوجی طاقت کو دشمن کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے استعمال کرے گا اور کسی بھی حملہ آور کو اپنی جارحیت جاری رکھنے پر بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرے گا۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے سخت الفاظ میں خبردار کیا کہ دشمن کو ایران کے خلاف جارحیت جاری رکھنے پر پچھتانا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی دفاعی اور فوجی صلاحیتوں کے ذریعے دشمن کی جارحیت کا مؤثر جواب دے گا اور اسے یہ احساس دلائے گا کہ اسلامی جمہوریہ کے خلاف کارروائی جاری رکھنا اس کے مفاد میں نہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل اور گیس بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل میں اس کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی ممکنہ فوجی یا بحری محاذ آرائی کے عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ایران کا بڑا جنگی انتباہ، دشمن کے ہر حملے کا 20 گنا طاقت سے جواب دینے کا اعلان