امریکا کے ساتھ پاکستان کا تجارتی سرپلس 2 ماہ میں 48 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا
اسلام آباد: پاکستان کا امریکا کے ساتھ تجارتی سرپلس رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں بڑھ کر 48 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے حجم میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ذرائع وزارت تجارت کے مطابق جولائی اور اگست 2026ء کے دوران پاکستان نے امریکا کو مجموعی طور پر 1 ارب 17 کروڑ ڈالر کی اشیا برآمد کیں، جبکہ اسی عرصے میں امریکا سے پاکستان کی درآمدات کا حجم 69 کروڑ ڈالر رہا۔
ذرائع کے مطابق پہلے دو ماہ میں پاکستان کی امریکا کے لیے برآمدات میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 10.46 فیصد اضافہ ہوا۔ دوسری جانب امریکا سے پاکستان کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور جولائی و اگست 2026ء کے دوران درآمدات 144 فیصد بڑھ گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق درآمدات میں بڑے اضافے کے باوجود پاکستان امریکا کے ساتھ تجارتی سرپلس برقرار رکھنے میں کامیاب رہا، اور دو ماہ کے دوران پاکستان کے حق میں تجارتی توازن 48 کروڑ ڈالر رہا۔ اس کے برعکس امریکا کو پاکستان کے ساتھ اتنے ہی حجم کا تجارتی خسارہ برداشت کرنا پڑا۔
ذرائع وزارت تجارت کے مطابق مالی سال 2025-26ء کے دوران بھی پاکستان کا امریکا کے ساتھ تجارتی سرپلس 2 ارب 59 کروڑ ڈالر رہا تھا۔ گزشتہ مالی سال پاکستان کی امریکا کے لیے برآمدات 5 ارب 91 کروڑ ڈالر جبکہ امریکا سے درآمدات 3 ارب 32 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔
تجارتی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا پاکستان کے لیے بدستور اہم برآمدی منڈی ہے، تاہم حالیہ دو ماہ کے دوران درآمدات میں تیز رفتار اضافے کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارتی توازن پر دباؤ بڑھنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔