امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، عباس عراقچی

امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا،  عباس عراقچی

پاکستان، قطر کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری، ایرانی وزیر خارجہ نےایران نے مذاکرات کی تردید کردی

تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے تہران نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا، جبکہ پاکستان اور قطر کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم اس رابطے کو باضابطہ مذاکرات قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے یا بند کرنے کا اختیار ایران کے پاس ہے۔

عباس عراقچی کے مطابق پاکستان اور قطر ثالثی کے تحت ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی تیسرے ملک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا نیا دور شروع ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران اس معاملے پر اپنے مفادات اور موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کو بھی امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ سفارتی پیش رفت سے جوڑا ہے۔ ان کے مطابق آبنائے سے تجارتی جہاز رانی کی بحالی کے لیے امریکا کو ایران کی جانب سے عائد کردہ شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق تکنیکی بات چیت بھی جاری ہے، جس کا مقصد سمندری راستوں اور جہاز رانی کے انتظام سے متعلق معاملات طے کرنا ہے۔

دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر سخت ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے سکتا ہے۔ غریب آبادی نے کہا کہ سوشل میڈیا پوسٹ، طیارہ بردار بحری جہاز، سرکاری حکم یا سیاسی تقریر کسی آبی گزرگاہ کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران امریکی دھمکیوں یا طاقت کے مظاہرے سے خوفزدہ نہیں ہوگا۔

ایرانی مؤقف کے مطابق آبنائے ہرمز کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ ایران کی جانب سے کیا جائے گا۔ تہران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ آبنائے سے جہاز رانی کی بحالی کا معاملہ صرف عسکری یا تجارتی مسئلہ نہیں بلکہ امریکا کے ساتھ وسیع تر تنازع، پابندیوں اور خطے میں جاری فوجی سرگرمیوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ واشنگٹن ایران پر مزید سخت معاشی دباؤ ڈالنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ تہران کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ امریکا مستقبل قریب میں اسے امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کر سکتا ہے۔ ان بیانات کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، اس لیے اس کی موجودہ صورتحال نے عالمی منڈیوں اور تیل کی ترسیل کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث اس آبی گزرگاہ سے تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور قطر کی جانب سے پیغامات کی ترسیل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سفارتی رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، تاہم ایران کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کا باضابطہ فیصلہ نہ کیا جانا ظاہر کرتا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد کا بحران بدستور موجود ہے۔ دوسری طرف آبنائے ہرمز کی بحالی کو مذاکرات، امریکی اقدامات اور ایران کی شرائط سے جوڑنے کے باعث یہ معاملہ آئندہ سفارتی کوششوں میں بھی مرکزی حیثیت رکھ سکتا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان اور قطر کا ثالثی کردار بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ پیغامات کے تبادلے کے دروازے کھلے ہیں، تاہم باضابطہ مذاکرات کی طرف واپسی کے لیے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ یوں موجودہ صورتحال میں سفارتی رابطے جاری رہنے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کی بحالی بدستور غیر یقینی ہے۔

آبنائے ہرمزایران - امریکا - جنگایران - وزیر خارجہ - عباس عراقچی
Comments (0)
Add Comment